Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
322 - 1245
تیسری فصل:		آنکھ اور شرم گاہ کی شہوت کی مخالفت
کرنےکی فضیلت
	جان لو کہ یہ شہوت انسان پر سب سے زیادہ غالب آنے والی ہے اور عقل پر چھا جانے کے وقت تمام شہوات میں سب سے زیادہ نافرمانی پر ابھا رتی ہے۔علاوہ ازیں اس کا نتیجہ ایسا قبیح وبرا ہے جس سے شرم محسوس ہوتی ہے اور اسے کر گزرنے سے خوف آتا ہےاور اکثرلوگ جو اس کے تقاضے پر عمل کرنے سے بچتے ہیں یا تو وہ عجز و کمزوری کی وجہ سے بچتے ہیں یاخوف وحیاکے سبب اس سے دور رہتے ہیں یالوگوں کے مابین اپنے مقام کی حفاظت کی بنا پراس سے اجتناب کرتے ہیں مگر ان میں سے کسی صورت میں ان کو ثواب نہیں ملے گا کیونکہ یہ تو ایک نفسانی لذت کو دوسری پر ترجیح دینا ہے۔ البتہ شہوت کے تقاضے پر عمل کرنے کے معاملے میں قدرت نہ ہونا عِصْمَت و حِفاظت ہے (کہ جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے بندے کی حفاظت کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے گناہ کرنےپر قدرت نہیں دیتا ہے )۔ ان رکاوٹوں میں فائدہ تو ہے اور وہ ہے گناہ کا دور ہو نا، مثلا کوئی شخص زنا سے باز رہے اور اس گناہ میں مبتلا نہ ہو تو وہ گناہ سے تو بچا رہے گا اگرچہ اس سے باز رہنے کا سبب کوئی بھی ہو۔ جبکہ فضیلت اور بڑا اجر وثواب اس صورت میں ہے کہ اسےزناپر قدرت ہو، تمام رکاوٹیں دور ہو جائیں، اسباب  آسان ہو جائیں اور خاص کر شہوت درحقیقت ہو ان سب کے باوجود وہ محض اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے خوف سے زنا سے باز رہے۔
	یہ صدیقین کا درجہ ہے۔اسی لئے رسول بے مثال،بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: مَنْ عَشَقَ فَعَفَّ فَکَتَمَ  فَمَاتَ فَھُوَ شَھِیْد یعنی جسے عشق ہوااور وہ گناہ سے پاک رہا، اسے چھپائے رکھا اور اسی حال میں انتقال کر گیا تو وہ شہیدہے۔(1)
سایہ عرش پانے والا:
	حضورِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بروز قیامت سات اشخاص کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گااُن میں سے ایک وہ ہےجسے کوئی حسن 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاريخ بغداد،المؤمل بن احمد،الرقم:۷۱۶۰، ۱۳/ ۱۸۵