Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
321 - 1245
 وہ حیا کے غَلَبہ کی وجہ سے گر پڑیں۔ میں نے دروازہ اچھی طرح بند کیا۔ پھر میں اس برتن کی طرف آیا جس میں روٹی اور زیتون تھا، اسے اٹھا کر چراغ کے سا ئے میں رکھ دیا تاکہ وہ اسے دیکھ نہ سکیں۔ پھر میں چھت پر چڑھ گیا اور پڑوسیوں کو بلایا۔ وہ میرے پاس آئے اور بولے: کیا ہوا؟ میں نے کہا:آج حضرت سیِّدُنا سعید بن مُسَیَّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دیا ہے  اور بغیر انتظار کئے اپنی بیٹی کو  فوراً رات میں لے آئے ہیں۔ وہ بو لے:کیا حضرت سیِّدُنا سعید بن مُسَیَّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے تمہارا نکاح کر دیا ہے؟ میں نے کہا:ہاں! وہ کہنے لگے: ان کی بیٹی گھر میں ہے؟ میں نے کہا: ہاں!تو وہ ان کے پاس آگئے  اور میری والدہ کو جب خبر پہنچی تو وہ بھی آگئیں اورفرمایا:میں تین دن تک اس کا بناؤ سنگھار کروں گی اس سے پہلے اگر تم نے اسے ہاتھ لگایا تومجھے دیکھنا تم پر حرام ہے۔ میں تین دن ٹھہرنے کے بعد جب ان کے پاس آیا تووہ ایک حسین و جمیل،کتابُ اللہ کی حافِظہ اورسُنَّتِ رسول کو زیادہ جاننے والی اور شوہر کے حق سے بخوبی واقف عورت تھیں۔پھر ایک مہینے  تک حضرت سیِّدُنا سعید بن مُسَیَّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میرے پاس نہیں آئے اور نہ ہی میں ان کے پاس گیا۔  ایک مہینے بعد میں  آپ کے پاس حاضر ہوا۔آپ اپنے حلقۂ اَحباب میں تشریف فرما تھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا ،آپ نے سلام کا جواب دیااور مزید کو ئی گفتگو نہیں فرمائی حتّٰی کہ جب لوگ مجلس سے چلے گئے تو فرمایا:اس انسان کا کیا حال ہے؟(انسان سے آپ کی مراد بیٹی تھی)میں نے کہا: اے ابومحمد!وہ خیریت سے ہے، دوست سے محبت اور دشمن سے نفرت کرتا ہے۔ فرمایا:اگر کسی معاملے میں وہ تمہاری نافرمانی کرےتو لاٹھی اٹھا لینا۔پھر میں گھر آیا تو آپ نے میری طرف 20 ہزار درہم بھیج دئیے۔
	حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن سلیمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:جب عبدُ المَلِک بن مروان نے اپنے بیٹے ولید کو وارثِ تخت و تاج اور اپنا جا نشین بنایا تو اس نے ولید کے لئے حضرت سیِّدُنا سعید بن مُسَیَّب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے آپ کی اس بیٹی کا رشتہ مانگا تھااور آپ نے انکار کر دیا تھا۔عبد الملک آپ کو تنگ کرنے کے بہانے ڈھونڈتا رہتا تھا حتّٰی کہ اس نے سردی کے دن میں آپ کو سو کو ڑے مارے اور آپ پرپانی کا برتن انڈیل دیااور اون کا لباس پہنا دیا۔
	حضرت سیِّدُنا سعید بن مُسَیَّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کااسی رات اپنی بیٹی کو جلد رخصت کر دیناتمہیں شہوت کے فتنے اور خرابی کی خبر دیتا ہے اور تمہیں اس بات سے آگاہ کر تا ہے کہ نکاح کے ذریعے شہوت کی آگ کو بجھانے میں جلدی کرنا دین میں ضروری ہے۔