Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
320 - 1245
 کہاں تھے؟ میں نے عرض کی:میری زوجہ کا انتقال ہو گیا تھا تو میں اس میں مصروف تھا۔ فرمایا:تم نے ہمیں خبر کیوں نہیں کی ہم بھی آجاتے؟ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن ابووداعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں: جب میں  اٹھنے لگا توآپ نےفرمایا:کیا دوسری عورت کو لانا چاہتےہو؟ میں نے عرض کی:مجھے کون رشتہ دے گا میری ملکیت میں تو صرف دو سے تین درہم ہیں؟ حضرت سیِّدُنا سعیدبن مسیَّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:میں دوں گا۔ میں نے عرض کی: آپ ایسا کریں گے؟ فرمایا:ہاں! پھر آپ نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد بیان کی اورحضور نبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود بھیجا اور دو یا تین درہم کے عوض میرا نکاح کر دیا(1)۔چنانچہ  میں  وہاں سےاٹھا اور مجھے اس قدر خوشی تھی کہ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھاکہ میں کیا کروں؟ میں اپنے گھر کی طرف چل پڑا اور سوچنے لگا کہ کس سے پیسے لوں اور کس سے قرض حاصل کروں؟ نماز مغرب پڑھ کر گھر آیا، چراغ جلایا، میں چونکہ دن بھر روزےسے تھا،لہٰذارات کے کھانے کے لئے روٹی اور زیتون سامنے رکھاہی تھا کہ اچانک کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے پوچھا: کون؟ آواز آئی: سعید۔میں نے حضرت سیِّدُنا سعید بن مُسَیَّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے علاوہ ہر سعید  نامی شخص کے بارے میں غور وفکر کرنا شروع کردیا کیونکہ 40سال سےآپ کو صرف مسجد اور گھر کے درمیان دیکھا جاتا تھا۔ جب میں باہر نکلا تو  کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت سیِّدُنا سعید بن مُسَیَّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کھڑے ہیں۔ میں نے یہ گمان کیا کہ آپ نے اپنی بیٹی کے معاملے میں غور وفکر کیا ہو گا تو آپ کے ذہن میں کوئی بات آئی ہوگی شاید اس لئے تشریف لائے ہیں۔ میں نے عرض کی:اگر مجھے بلوالیا ہو تا تو میں ضرور حاضر ہوجا تا۔فرمایا:نہیں! تم اس بات کے زیادہ حق دار ہو کہ تمہارے پاس آیا جائے۔
	حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن ابووداعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں نے عرض کی: میرے لائق کیا حکم ہے؟ فرمایا:تم تنہا تھے پھر تم نے نکاح کیا  تومجھے تمہارا اکیلے رات گزارنا اچھا نہیں لگا۔ یہ تمہاری بیوی ہے میں نے دیکھا تو واقعی وہ آپ کے پیچھے سیدھی کھڑی تھیں۔پھر آپ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں گھر کے اندر کیااور دروازہ بند کر دیا تو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احناف کے نزدیک:مہرکی کم سے کم مقداردس درہم ہے۔نکاح میں دس درہم یا اس سے کم مہرباندھا گیا،تو دس درہم واجب اور زیادہ باندھا گیا ہو تو جومقرر ہواواجب۔(ماخوذازبہارشریعت،حصہ۷، ۲/۶۵،۶۴)دس درہم چاندی دوتولہ ساڑھے سات ماشہ کے برابر ہوتی ہے۔(فتاوٰی فیض الرسول،۱/ ۷۱۲،مطبوعہ:شبیربرادرز)