Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
32 - 1245
بےشک دل زمین میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا برتن ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو نرم، پختہ اور سخت دل زیادہ پسند ہیں۔پھر اپنے قول کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: دل سخت ہونے سے مراد دین میں مضبوطی، پختہ ہونے سے مراد پختہ یقین اور نرم ہونے سے مراد مسلمانوں پر نرمی ہے۔
	اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمان میں بھی اسی طرف اشارہ ملتا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ (پ۲۶،الفتح:۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان: کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل۔
﴿2﴾…حضرت سیِّدُنا اُبَی بن کَعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرمان: مَثَلُ نُوۡرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیۡہَا مِصْبَاحٌ ؕ (1)“
کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”اس سے مراد مومن اور اس کے دل کا نور ہےاور’’ اَوْکَظُلُمٰتٍ فِیۡ بَحْرٍلُّجِّیٍّ(2)“سے مراد مُنافق کے دل کی مثال بیان کرنا مقصود ہے۔
﴿3﴾…حضرت سیِّدُنا زید بن اسلمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم اس فرمان باری تعالیٰ: فِیۡ لَوْحٍ مَّحْفُوۡظٍ ﴿٪۲۲﴾ (3)“ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس سے مراد مومن کا دل ہے۔
﴿4﴾…حضرت سیِّدُناسَہل تُسْتَرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:دل اور سینے کی مثال عرش اور کرسی کی سی ہے۔
	یہ تمام مثالیں دل کی ہیں۔
چوتھی فصل:			دل کے اوصاف اور ان کی مثالیں
	جان لیجئے کہ انسان کی تخلیق چار چیزوں سے مُرکَّب ہے اسی لئے اس میں چار طرح کے اوصاف پائے جاتے ہیں: (۱)درندوں والی صفات (۲)جانوروں والی صفات (۳)شیطانوں والی  صفات (۴)فرشتوں والی صفات۔
	جب انسان پر غصے کا غلبہ ہوتا ہے تو یہ درندوں والی حرکات اپنا لیتا ہے یعنی اس کاکینہ  اور بغض بڑھ جاتا ہے،پھر یہ لوگوں سے لڑتا اور گالی گلوچ کرتا ہے اور جب اس پر خواہش کا غلبہ ہوتا ہے تو یہ اپنی خواہش کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… ترجمۂ کنزالایمان: اس کے نور کی مثال ایسی جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے۔(پ۱۸،النور:۳۵)
2… ترجمۂ کنزالایمان: یا جیسے اندھیریاں کسی کنڈے کے دریا میں۔(پ۱۸،النور:۴۰)
3… ترجمۂ کنزالایمان: لوح محفوظ میں۔(پ۳۰،البروج:۲۲)