شروع کر دیجئے،اپنا وصی(وصیت پر عمل کرنے والے) خود بنئے، دوسرے لوگوں کو اپنا وصی مت بنائیے کہ وہ آپ کی میراث کو آپس میں بانٹ لیں،روزانہ روزہ رکھیں اور آپ کاروزہ موت کے سبب چھو ٹنا چاہئے۔ جہاں تک میرا تعلُّق ہےتو اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے بھی اتنا ہی عطا فرمادے جتنا آپ کو دیا بلکہ اس سے بھی دگنا عطا فرما دے تو میں ایک لمحے کے لئے بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے غافل ہونا پسند نہیں کروں گی۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے جواب میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو چیز بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے غافل کردے وہ نقصان دہ ہے۔
شہوت کو جڑ سے ختم کرو اگرچہ نکاح کے ذریعے:
مرید کو اپنی حالت اور اپنے دل پر نظر کر نی چاہئے اگر وہ شادی نہ کرنے میں ہی اپنے دل میں سکون پائے تو یہ آخرت کے راستے پر چلنے کے زیادہ قریب ہے۔اگر اس معاملے میں وہ بے بس ہو تو نکاح اس کے لئے بہتر ہے اور اس بیماری کی دوا تین چیزیں ہیں: (۱)…بھوک (۲)…نگاہیں نیچی رکھنا اور (۳)…ایسے کام میں مشغول ہوجانا جو اس کے دل پر غالب آجائے۔اگر یہ تینوں چیزیں بھی نفع نہ دیں تو صرف نکاح ہی ہے جو شہوت کو جڑ سے ختم کرسکتا ہے ۔
سلف صالحین اپنی اولاد کا نکاح جلد کردیتے:
یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین نکاح کرنے میں جلدی کرتے اور اپنی بیٹیوں کی شادی بھی جلد کر دیتے۔ حضرت سیِّدُنا سعید بن مُسَیَّب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ابلیس کسی سے مایوس نہیں ہوتا اور وہ عورتوں کے ذریعے سے انسان کے پاس آتا ہے ۔ ایک مرتبہ ارشاد فرمایا:مجھے عورتوں سے زیادہ کسی چیز کا خوف نہیں ہے۔ اور یہ بات آپ نے اس وقت ارشاد فرمائی جب آپ کی عمر 84سال تھی اور آپ ایک آنکھ سے نابینا ہوچکے تھے اور دوسری آنکھ بھی کمزور ہوچکی تھی۔
انوکھا نکاح اور انوکھی رُخصتی:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن ابووداعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: میں حضرت سیِّدُنا سعید بن مُسَیَّب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مجلس میں آتا جاتا رہتا تھا۔آپ نے کچھ دن مجھے نہ دیکھا۔جب میں حاضر ہوا تو فرمایا: تم