Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
318 - 1245
آگئی اور اس کے گھر والوں کی پر یشانی دور ہو گئی۔ وہ عورت مرید کے پاس بیس سال تک رہی (مگر وہ  اسی طرح نابینا بنے رہے) جب اس عورت کا انتقال ہو گیا تو انہوں نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔ جب اس بارے میں ان سے پو چھا گیا تو انہوں نے  کہا کہ میں نے اس عورت کے گھر والوں کی خاطر ایسا کیا تا کہ وہ پریشان وغمگین نہ ہوں۔ ان سے عرض کی گئی کہ حُسْنِ سُلُوک میں آپ اپنے بھا ئیوں پر سبقت لے گئے۔
بیوی کی بَد اَخلاقی پر صَبْر:
	ایک صوفی بُزرگ نےکسی بَد اَخلاق عورت سے نکاح کیا ۔وہ بزرگ اس کی بد اخلاقیوں پر صبرکرتے رہتے تھے۔ ان سے عرض کی گئی:آپ اسے طلاق کیوں نہیں دے دیتے؟ ارشاد فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ اس سے کوئی ایسا شخص نکاح نہ کر لے جو اس کو برداشت نہ کر سکے اوریوں اس کے سبب اسےنقصا ن و تکلیف پہنچے۔
	اگر مرید نکاح کرے تو اسے اسی طرح ہو نا چاہئےاوراگر وہ نکاح  کوچھوڑ دینے پر قادر ہو اور آخرت کے راستے پر چلنے اور نکاح کی فضیلت دونوں کو جمع بھی نہ کر سکتا ہو اور وہ یہ بھی جانتا ہو کہ نکاح اسے اس کی حالت سے غافل کر دے گا تو اس کے لئے نکاح نہ کرنا بہتر ہے۔
پیغامِ نکاح کا فکر انگیز جواب:
	منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا محمد بن سلیمان ہاشمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کی روزانہ کی آمْدَنی 80ہزار درہم تھی۔ آپ نے بصرہ کے عُلَما کو لکھا کہ میں کس عورت سے نکاح کروں؟ تمام علما حضرت سیِّدَتُنا رابعہ بَصَرِیَّہ عَدَوِیّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا سے نکاح کئے جانے پر متفق ہوگئے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا محمد بن سلیمان ہاشمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی نے حضرت سیِّدَتُنا رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کو خط لکھا:بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم، اَمَّا بَعد:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ دنیا کی آمدنی سے روزانہ مجھے 80ہزار درہم کا مالک بناتا ہے اور چند دنوں بعد میں انہیں ایک لاکھ تک پہنچادوں گا اور میں آپ کو بھی اتنے ہی دیا کروں گا لہٰذ ا میرےنکاح کے پیغام کو قبول کرلیجیے۔حضرت سیِّدَتُنا رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے آپ کو جواباً  لکھا: بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم، اَمَّا بَعد:دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنا دل اور بدن کے لئے راحت کاسبب ہے اور دنیا میں رغبت رنج وغم کا باعث ہے۔جب میرا یہ خط آپ کے پاس آئے تو اپنا زادِ راہ تیار کیجئے اور آخرت کے لئے عمل