اور اپنی سوچ وفکر کوقابو کرنے کے معاملے میں بےبس ہوجائےتو اس کے لئے درست اور بہتر یہ ہے کہ وہ نکاح کے ذریعے اپنی شہوت کو توڑ ے کیونکہ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی شہوت محض بھوک سے قابو نہیں ہوتی۔
غیبی اِمداد:
ایک بزرگ فرماتے ہیں: راہِ سُلُوک کی ابتدا میں مجھ پر شہوت کا اس قَدْر غَلَبہ ہوا جو میری برداشت سے باہر تھا، میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں کثرت سے گریہ وزاری کی۔چنانچہ میں نے خواب میں ایک شخص کو دیکھا، اس نے مجھ سے کہا:تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے اسے اپنی تکلیف بیان کی تو اس نے کہا: میرے پاس آؤ۔ میں اس کے پاس گیا۔اس نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ رکھا تو میں نے اپنے تمام جسم اور دل میں اس کی ٹھنڈک محسوس کی۔ جب صبح ہو ئی تو وہ غَلَبہ ختم ہو چکا تھا۔ ایک سال تک مجھے اس سے نجات ملی رہی پھر ایک سال بعد دوبارہ وہی کیفیت ہو گئی۔ میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں کثرت سے فریاد کی تو خواب میں ایک شخص میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا:جس کیفیت میں تم مبتلا ہو کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ یہ کیفیت تم سے چلی جائے اور میں تمہاری گردن اڑادوں؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا:اپنی گردن جھکاؤ۔ میں نے جھکالی۔اس نے ایک نورانی تلوار نکالی اور اس سے میری گردن اڑادی۔ جب صبح ہو ئی تو میری وہ کیفیت ختم ہو چکی تھی۔ ایک سال تک مجھے اس سے خَلاصی ملی رہی، ایک سال بعد دوبارہ یہی کیفیت یا اس سے بھی زیادہ شدید ہو گئی تو میں نے اپنے پہلو اور سینے کے درمِیان ایک شخص کو دیکھا جو مجھے مخاطب کر کے کہہ رہا تھا: تم پر افسوس ہے! کب تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اُس چیز کے دور کرنے کا سوال کرتے رہو گے جسے دور کرنا اسے پسند نہیں۔ وہ بزرگ کہتے ہیں کہ میں نے شادی کرلی تو مجھ سے یہ کیفیت ختم ہو گئی اورمجھےاولاد کی نعمت بھی مل گئی۔
جب مرید نکاح کا ارادہ کرے چند باتیں ضرور پیش نظر رکھے۔ مثلاً:اچھی نیت کے ساتھ نکاح کرے اور بعد میں ہمیشہ بیوی کے ساتھ حُسْنِ اَخلاق سے پیش آئے،اس کے ساتھ دُرُست رَوَیّہ اِختیار کرے اور اس کے حقوقِ واجبہ ادا کرے جیساکہ ہم نے اس کی تمام تفصیل(دوسری جلد میں)”آدابُ النِّکاح“ کے بیان میں ذکر کر دی ہے،لہٰذاہم اسے دوبارہ ذکر کرکے کتاب طویل کرنا نہیں چاہتے۔ اس کے ارادت میں سَچّا ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ کسی غریب اوردین دار عورت سے نکاح کرےکسی مالدار کی تلاش نہ کرے۔چنانچہ