Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
315 - 1245
	تو میں کہوں گا کہ فرق محسوس کرنے سے میری مراد صرف آنکھ کا فرق محسوس کرنانہیں ہے بلکہ اسے اس طرح فرق محسوس کرنا چاہئےجس طرح وہ سرسبز اور خشک درخت کے درمیان ،صاف اور گدلے پانی کے درمیان، ٹہنیوں،کلیوں، پھول والے درختوں اورپتوں سے خالی درختوں کے درمیان محسوس کرتا ہے کیونکہ وہ اپنی آنکھ اور طبیعت کے ذریعے دو چیزوں میں سے ایک کی طرف مائل ہو تا ہے لیکن یہ میلان شہوت سے خالی ہو تا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ٹہنیوں اور پھولوں کو چھونے اور انہیں چومنے سے شہوت نہیں  آتی اور نہ ہی صاف پانی کا بوسہ لینے سے آتی ہے۔اسی طرح آنکھ کبھی کبھی خوبصورت بوڑھی عورت کی طرف مائل ہوتی ہے اور اس کے درمیان اور بد صورت چہرے کے درمیان فرق محسوس کرتی ہے لیکن اس فرق میں شہوت نہیں ہو تی۔ شہوت کو اس طرح پہچانا جا سکتا ہے کہ نفس اس کا قرب چاہنے اور اسے چھو نے کی طرف  مائل ہو۔ تو جب انسان یہ میلان اپنے دل میں پائے اور خوبصورت چہرے کے درمیان اور خوبصورت گھاس وپودوں، منقّش کپڑوں،سونے سے آراستہ چھتوں کے درمیان فرق محسوس کرے تو اس وقت اس کی نظر شہوت کی نظر ہوگی اور یہ حرام ہے۔  یہ ان چیزوں میں سے ہے جسے لوگ معمولی سمجھتے ہیں، اسے کسی خاطر میں نہیں لاتے حالانکہ یہ چیز انہیں غیر شعوری طور پر ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے۔
امرد سے بچنے کے متعلق اقوالِ بزرگانِ دین:
٭…ایک تا بعی بزرگ فرماتے ہیں: مجھےعبادت گزار نو جوان پر کسی خونخوار درندے کااتنا خوف نہیں جتنا اس کے پاس بیٹھے امرد لڑکے کا ہے۔
٭…حضرت سیِّدُنا سُفْیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص پاؤں کی انگلیوں سے کسی لڑکے کو دبائے اور اس کا ارادہ شہوت کا ہو تو ضرور وہ لوطی(یعنی اِغلام باز) ہوگا۔
٭…ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ عنقریب اس امت میں تین قسم کے لوطی ہو ں گے:(۱)ایک وہ جو امردوں کو دیکھیں گے (۲)دوسرے وہ جوان سےہاتھ ملائیں گے اور (۳)تیسرے وہ جو ان کے ساتھ بد فعلی کریں گے۔
	جب معاملہ ایسا ہے تب تو نوجوان لڑکوں کی طرف نظر کرنے میں بڑی آفت ہے۔ جب مرید اپنی نگاہ نیچی رکھنے