﴿5﴾…حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں: حضرت عبداللہ بن اُمِّ مکْتُوْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جوکہ نابینا تھے انہوں نے بارگاہِ رسالت میں حاضری کی اجازت چاہی۔ میں اور مَیْمُونہ(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) وہاں بیٹھی ہو ئی تھیں۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تم دونوں پردہ کرو۔ہم نے عرض کی: کیا وہ نابینا نہیں، وہ تو ہمیں دیکھ ہی نہیں سکتے؟ ارشاد فرمایا: تو کیا تم دونوں بھی انہیں نہیں دیکھ سکتیں۔۔۔؟(1)
نابیناکی عورتوں کے ساتھ تنہائی حرام ہے:
مذکورہ حدیْثِ پاک اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورتوں کے لئےاجنبی نابینا مردوں کے ساتھ بیٹھنا جائز نہیں جیسا کہ خوشی اور غمی کے اوقات میں اس کا رواج ہے۔ یوں ہی نابیناکے لئے بھی عوتوں کے ساتھ تنہائی اختیار کرنا حرام ہے۔ عورت کے لئےبغیر کسی حاجت کے نا بینا کے ساتھ بیٹھنا اور(شہوت و اندیشۂ شہوت سے)اسے دیکھنا حرام ہے۔ عورتوں کو مردوں سے بات چیت کرنے اور ان کی طرف نظر کرنے کی صرف اس لئے اجازت دی گئی ہے کہ عموماً اس کی حاجت پیش آتی ہے۔
اَمْرد کی طرف شَہوت سے دیکھنا حرام ہے:
اگر مرید عورتوں سے اپنی آنکھ کی حفاظت پر قادر ہو لیکن لڑکوں سے اپنی نگاہ کی حفاظت نہ کر سکتا ہو تو اس کے لئے نکاح کرنا اَولیٰ اور بہتر ہے کیو نکہ لڑکوں کے معاملے میں شر زیادہ ہے اس لئے کہ اگر اس کا دل کسی عورت کی طرف مائل ہوا تو نکاح کے ذریعے جائزطریقے پراسےحاصل کر سکتا ہے۔ لڑکے کے چہرےکی طرف شہوت سے نظر کرنا حرام ہے بلکہ جوشخص بھی امرد(یعنی خوبصورت لڑکے)کی صورت کے جمال سے اس طرح مُتَاَثِّر ہو کہ داڑھی والےاورامردکے درمیان فرق محسوس کرے تو اس کے لئے امرد کی طرف نظر کرنا حلال نہیں ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
اگرتم یہ کہو کہ ہر حس رکھنے والا شخص لازمی طور پر اچھی اور بری صورت کے درمیان فرق محسوس کرے گا اور لڑکوں کے چہرے بھی تو کھلے ہو تے ہیں؟
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابی داود،کتاب اللباس،باب فی قوله عزوجل:وقل للمؤمنات...الخ،۴/ ۸۷،حديث:۴۱۱۲