Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
312 - 1245
 آپ کو طَبْعِی اور فطری طور پراللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دائمی اُنس تھا جبکہ مخلوق کے ساتھ آپ کا اُنس عارضی اور اپنے بدن کے ساتھ نرمی کی بنا پر تھا پھر جب آپ مخلوق کے ساتھ بیٹھتے اور اپنے سینے میں کچھ تنگی محسوس کرتے تو ارشاد فرماتے:’’اَرِحْنَا بِھَا یَابِلَال! یعنی اے بلال! نمازسے ہمیں راحت پہنچاؤ۔‘‘(1)حتّٰی کہ آپ اپنی آنکھوں  کی ٹھنڈک یعنی نماز کی طرف لوٹ جاتے۔(2) لہٰذا  جب کمزور و ضعیف شخص  اس طرح کے معاملات میں  آپ کے احوال کو دیکھتا ہے تو دھوکا کھا جاتا ہے کیو نکہ عقلیں سرکارِدوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَفعال کے اَسرار  ورُمُوزجاننے سےقاصِر ہیں۔
پہلے آنکھ بہکتی ہے پھر شرم گاہ:
	راہِ سلوک کی ابتدا میں مرید کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ نکاح نہ کرے تاکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی معرفت میں مضبوط وطاقتور ہوجائے لیکن یہ اس وقت ہے جب کہ اس پر شہوت کا غلبہ نہ ہو۔اگر اس پر شہوت غالب ہو تو اسے چاہئے کہ طویل بھوک اور مسلسل روزوں کے ذریعے اسے توڑے۔اگر اس کے ذریعے بھی شہوت ختم نہ ہو مثلاً وہ آنکھ کی حفاظت پر قادر نہیں ہے اگر چہ شرم گاہ کی حفاظت پر قادر ہےتو شہوت کی تسکین کی خاطر اس کے لئے نکاح کرنا اَولی ٰ اوربہتر ہے وگرنہ جب اس کی آنکھ ہی محفوظ نہ ہوگی تو اس کے  خیالات بھی سلامت نہیں رہ سکیں گے اور اس کی سوچ مُنْتَشِر رہے گی اور بعض اوقات ایسی آزمائش و مصیبت میں جاپڑے گا جو اس کی طاقت سے باہر ہو گی اور آنکھ کا زنا(یعنی حرام دیکھنا) صغیرہ گناہوں میں بڑا گناہ ہےاور یہ بہت جلدسخت کبیرہ گناہ یعنی شرم گاہ کے زنا کی طرف لے جاتا ہے اور جو اپنی نگاہ نیچی رکھنے پر قادر نہیں وہ شرمگاہ کی حفاظت پر بھی قادر نہیں ہوسکتا۔
نظر کی حفاظت سے متعلق اقوالِ انبیا واولیا:
٭…حضرت سیِّدُنا عیسٰیرُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشادفرمایا: نظر کی حفاظت کرو کیو نکہ یہ دل میں شہوت کا بیج بوتی ہے اور شہوت فتنے کے لئے کافی ہے۔
٭…حضرت سیِّدُنا سعید بن جُبَیْررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:نظر ہی کی وجہ سے حضرت سیِّدُنا داؤد عَلَیْہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابی داود،کتاب الادب،باب فی صلاة العتمة،۴/ ۳۸۵،حديث:۴۹۸۵
2…سنن النسائی،کتاب عشرة النساء،باب حب النساء،ص۶۴۴،حديث:۳۹۴۶