اُنْسِیَّت اور لگاؤ کی طرف لے جائے گی اور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےعلاوہ کسی سے دل لگائے تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے غافل ہوجاتا ہے۔محبوبِ خُدا،محمدمُصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کثرتِ نکاح کے سبب اسےہرگز دھوکے میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ دنیا کی کوئی چیز بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دل کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے غافل نہیں کرتی تھی،لہٰذا فرشتوں کو لوہاروں پر قیاس نہ کیا جائے۔(1) یہی وجہ ہے کہ
باعث نَحُوْسَت مال اور اَہل وعیال:
حضرت سیِّدُنا ابوسُلَیْمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے ارشاد فرمایا:جس شخص نے شادی کی وہ دنیا کی طرف مائل ہو گیا۔ ایک مرتبہ فرمایا: میں نے نہیں دیکھا کہ کسی مرید نے شادی کی ہو اورپھر وہ اپنی پہلی حالت پر ثابت قدم رہا ہو۔ایک مرتبہ آپ سے پوچھا گیا کہ کس سبب سے آپ کو عورت سےمانوس ہونے اور دل لگانے کی حاجت پیش آئی؟ ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ عور ت میں میرا دل نہ لگائے۔ایسا اس لئے فرمایا کہ اس سے اُنس ہوگا تو یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ انس کے راستے میں رُکاوَٹ بنے گا۔ ایک مرتبہ ارشادفرمایا: بیوی، مال اور اولاد میں سے جو بھی تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے غافل کردےوہ تمہارے لئےباعثِ نحوست ہے۔
حضور ہمہ وقت محبَّتِ الٰہی میں مستغرق رہتے:
حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کسی دوسرے کو کیسے قیاس کیاجاسکتا ہے حالانکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت میں مستغرق رہتے تھے حتّٰی کہ آپ اپنے اندر اس کی سوزش اس حد تک پاتے کہ بعض اوقات آپ کو خوف لاحق ہو جاتا کہ کہیں یہ دل سے جسم کی طرف آکر آپ کی صحت پر اثر انداز نہ ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کبھی کبھی اپنامبارک ہاتھ حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی ران پرمار کر فر ماتے:’’اے عائشہ! مجھ سے گفتگو کرو‘‘(2) تاکہ ان کی گفتگو کے ذریعے جس عظیم معاملے میں آپ مستغرق ہیں اُس سے دوسری طرف متو جہ ہو جائیں کیو نکہ آپ کا ظاہری جسم اس کی طاقت و قدر ت نہیں رکھتا تھا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…چو نکہ لوہے کا کام کرنے کے سبب لوہاروں کے کپڑے بہت زیادہ میلے کچیلے ہو جاتے ہیں لہٰذا اس جملے سے مراد یہ ہے کہ گناہوں سے پاک صاف لو گوں کو گنا ہوں میں لتھڑےلوگوں پر قیاس کر نا درست نہیں ہے۔ (اتحاف السادة المتقین،۹/۹۷)
2…تذکرالموضوعات،باب السماع والشوق من الابرار،ص۱۹۶.علمانے لکھا ہے کہ اس کی کوئی سندنہیں ہے۔