باعث بن جاتی ہیں اور یہ لوگ ان سے کسی صورت صبر نہیں کرسکتے۔
عشق بعض اوقات موت کا سبب بن جاتا ہے:
جو شخص عشق کی ابتدا ہی میں اس کے جوش کو کم کر دیتا ہے اس کی مثال اس شخص کی سی ہےجو دروازے سے اندر داخل ہوتےہی چوپائے کی لگام پھیر دے۔اس وقت اس کی لگام پکڑ کر اسے پھیرنا آسان ہوتا ہے اور جو عشق کے پختہ اور مضبوط ہونے کے بعداس کا علاج کرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے جو چو پائے کو اس کی حالت پر چھوڑ دے حتّٰی کہ وہ دروازے کو پار کرکے اندر داخل ہو جائے پھر وہ اس کی دُم پکڑ کر اسے پیچھے کی طرف کھینچنےلگے۔ (بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ) آسانی اور مشکل میں دونوں معاملوں کے مابین کس قدر فرق ہے،لہٰذا ابتدائی مراحل میں احتیاط ہونی چاہئےورنہ جب معاملہ انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو علاج بہت مشکل سےہوتا ہےاور ہوسکتا ہے عنقریب عشق روح کو جسم سے جدا کر دے۔
معلوم ہوا کہ جب شہوت کی زیادتی عقل پر اس حد تک غالب آجائے تویہ نہایت مذموم ہے اور شہوت میں کمی ہونا اس طرح کہ وہ نامرد ہو یا بیوی کو مطمئن اور لُطْف اَندوز کرنے کے مُعامَلے میں کمزورہو تو یہ بھی قابِل مَذمَّت ہے۔
کون سی شہوت قابل تعریف ہے؟
صرف وہ شہوت محمود اور قابل تعریف ہے جو مُعْتَدِل ہو اور کم زیادہ ہو نے کے معاملے میں عقل اور شریعت کے تابع ہو اور جب شہوت بڑھ جائے تو بھوک اور نکاح کے ذریعے اسے توڑدو۔چنانچہ
محسن انسانیتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اے نوجوانوں کے گروہ! تم پر نکاح کرنا لازم ہے توجسے اس کی طاقت و استطاعت نہ ہووہ روزہ رکھ لےکہ روزہ شہوت کو ختم کر دیتا ہے۔“ (1)
دوسری فصل: نکاح کرنے نہ کرنے کے متعلق مرید پر لازم باتیں
راہِ سلوک کی ابتدا میں مرید کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ نکاح کر کے اپنے دل اور نفس کومصروف نہ کرے کیو نکہ یہ ایک ایسی مصروفیت ہے جوراہِ آخرت پر چلنے سےاسےروک دے گی اور اسے بیوی سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری،کتاب النکاح،باب قول النبی من استطع منکم الباءة ...الخ،۳/ ۴۲۲،حديث:۵۰۶۵