کے متعلق اور ناک ہرقسم کی بو کے متعلق خبر دینے پر مُقَرَّر ہے، ایسے ہی دیگر حواس کا معاملہ ہے۔ یہ تمام حواس یعنی جاسوس اپنی خبریں اور خیالات،قاصد یعنی اس قوت تک پہنچاتے ہیں جو خیالات ذہن میں لاتی ہے اور قاصد ان خیالات کو خزانچی یعنی قوتِ حافظہ کے سپرد کردیتا ہے اور خزانچی انہیں بادشاہ کے دربار میں پیش کرتا ہے تاکہ بادشاہ کو سلطنت کے معاملات چلانے، آخرت کی طرف جاری اس سفر کی تکمیل اور اس راہ میں آنے والے دشمنوں اور ڈاکوؤں (یعنی خواہشات) کو دور کرنے کے لئے جن خبروں کی حاجت ہو انہیں چن لے۔
خوش بخت اور بدبخت:
اگر انسان مذکورہ طریقے پر عمل کرے تو وہ سعادت مند اور نعمت خداوندی کا شکرگزارکہلائےگا لیکن اگر وہ ان قوتوں کو استعمال میں ہی نہ لائے یا دشمنوں یعنی خواہشات اور غضب و غصہ کے مقاصد کی تکمیل کے لئے یا حقیقی منزل اور مستقل ٹھکانے یعنی آخرت کے بجائے اس کے راستے اور عارضی منزل یعنی دنیا اور اس کی نعمتوں کے حصول کے لئے استعمال میں لائے تو ایسا شخص بدبخت، مردود، نعمت الٰہی کا ناشکرا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لشکروں کو ضائع کرنے والا، اس کے دشمنوں کا مددگار، عذاب الٰہی کا مستحق اور دنیا و آخرت میں رحمتِ الٰہی سے دور ٹھہرے گا۔ ہم ان سب سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ چاہتے ہیں۔
حضرت سیِّدُنا کَعْبُ الْاحبار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار کے فرمان میں ہماری ذکر کردہ مثال کی طرف اشارہ ملتا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں:میں نے اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی: ”انسان کی آنکھیں راہ نما، کان محافظ، زبان ترجمان، ہاتھ لشکر کے دو بازو، پاؤں قاصد اور دل ان کا بادشاہ ہے۔ اگر بادشاہ اچھا ہوگا تو اس کا لشکر بھی اچھا ہوگا۔“توآپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا: ”میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اسی طرح فرماتے سنا ہے۔“(1)
مومن اور منافق کے دل کے متعلق چاراقوالِ بزرگان دین:
﴿1﴾…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے دل کے متعلق ارشادفرمایا:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الايمان،باب فی الايمان باللّٰہ عزوجل،۱/ ۱۳۲، حديث:۱۰۹، بتغير،عن ابی ھریرة رضی اللّٰہ عنہ