Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
309 - 1245
وہ کسی وقت اس سے غافل ہوجائیں تو انہیں بھڑکا نے کی تدبیر اختیار کرکے ان کوجوش دلائے پھر ان کے علاج میں مشغول ہو جائے۔ دَرْحقیقت کھانے اور جماع کی خواہش بھی آلام و تکالیف ہیں،  انسان ان سے چھٹکارا چاہتا ہے اور ان سے نجات ملنے کے سبَب لذّت پاتا ہے۔(1)
شہوت عشق تک لے جا تی ہے:
٭…شہوت کی زیادتی کے سبب انسان میں پیداہونے والی دوسری ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ شہوت بعض بھٹکے  ہوئے لوگوں کو عشق تک لے جاتی ہے اور یہ جماع کے مَقاصِد میں جہالت کی انتہا ہےاور صِفَتِ حیوانیت میں چو پایوں کی حد کو بھی پار کرنا ہےکیونکہ عاشق جماع کی خواہش پوری ہوجانے پراِکتفانہیں کرتااور یہ سب سے بُری اور قبیح شہوت ہے اور اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ اس سے کنارہ کشی اختیار کی جائے۔حَتّٰی کہ اس کا یہ اِعْتِقاد ہوجاتا ہےکہ شہوت صرف ایک ہی جگہ سے پوری ہو تی ہےجبکہ چو پا یہ کو جہاں کہیں موقع ملتا ہے شہوت پوری کر لیتا ہے اور اسی پر اکتفا کر لیتا ہے جبکہ یہ شخص ایک معیّن انسان پر اکتفا کرتا ہے اور اس سلسلے میں ذلت پر ذلت برداشت کرتا اور غلامی کا بوجھ اٹھاتا ہےحتّٰی کہ عقل سے شہوت کی غلامی کا کا م لیتا ہے حالانکہ عقل کو اس لئے پیدا کیا گیا  ہےکہ اس کی اطاعت کی جائے نہ کہ اس لئے پیدا کیا گیا کہ یہ شہوت کی غلام ہو اور شہوت پوری کرنے کے لئے تدبیریں کرے۔
عشق لا پروااورفارغ دل کا مرض ہے :
	عشق شہوت کی زیادتی کا نام ہے اور یہ ایسے دل کا مرض ہے جو فارغ ہو اور اسے کوئی فکر نہ ہو۔اس کے آغاز میں ہی  اس سےجان چھڑانا ضروری ہےاس طرح کہ  معشوق کو دیکھنے اور اس کے متعلق سوچ و بچار کی عادت کو چھوڑدیا جائےورنہ جب یہ پختہ اور مضبوط ہو جائے گا تو اس کو دور کرنا مشکل ہوجائےگااور اسی طرح مال، مرتبے، زمین اور اولاد کے عشق حتی کہ پرندوں سے کھیل اور شطرنج کھیلنے کی محبت سے بھی ابتداءً جان چھڑانا ضروری ہے کیو نکہ یہ چیزیں بعض لوگوں پر غالب آکردینی اور دنیوی اعتبار سے  ان  کے لئے پریشانی کا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…یہاں ایک حدیث اور اس کی وضاحت کا ترجمہ نہیں دیا گیا اس کی عربی عبارت کتاب کے آخر میں دے دی گئی ہے۔