Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
307 - 1245
 وَمَنِیِّیعنی اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!میں اپنے کان، آنکھ، دل، شرم گاہ اور مادۂ منویہ کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“(1)
عورتیں شیطان کا جال ہیں:
	حضورنبیّ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اَلنِّسَاءُ  حَبَائِلُ الشَّیْطَانِ وَلَوْلَا ھٰذِہِ الشَّھْوَةُ لَمَا کَانَ لِلِّنسَاءِ سُلْطَةٌ عَلَی الرِّجَال یعنی عورتیں شیطان کا جال ہیں(2) اگر یہ شہوت نہ ہوتی تو عورتوں کا مردوں پر قبضہ نہ ہوتا۔“ 
شیطان کی ٹوپی:
	منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا موسٰیکلیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ایک جگہ تشریف فرما تھے کہ ابلیس آپ کے پاس آیا، اس کے سر پر ایک ٹوپی تھی جس میں کئی رنگ چمک رہے تھے۔جب اس نےآپ کے قریب ہونے کا ارادہ کیا تو ٹوپی اتار کر رکھ دی پھرآپ کے قریب آکر سلام کیا، حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے پوچھا: تم کون ہو؟ کہا: میں ابلیس ہوں۔ آپ نے فرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تجھےہلاک کرے! کیوں آیا ہے ؟ اس نے کہا: چونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں آپ کو مقام ومرتبہ حاصل ہےاس لئےآپ کوسلام کرنے آیا ہوں۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے پوچھا: میں نے جو کچھ تم پردیکھا وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ ٹوپی ہےجس کے ذریعے میں بنی آدم کے دلوں کو قابو کر تا ہوں۔حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے پوچھا: ایسا کون سا عمل ہے کہ جب انسان  اسےکرتا ہے تو تُو اس پر غالب آجاتا ہے؟ شیطان نے کہا: جب وہ خود پسندی میں مبتلا ہو جائے ، اپنے اعمال کو زیادہ سمجھنے لگے اور اپنے گناہوں کو بھول جائے۔ پھر اس نے کہا: میں آپ کو تین باتیں بتاتا ہوں:(۱)کسی ایسی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کریں جو آپ کے لئے حلال نہ ہو کیو نکہ جو شخص  بھی کسی اجنبیہ عورت کے ساتھ تنہا ہوتا ہے تومیرے چیلوں کے بجائے اس کے ساتھ میں خود ہو تا ہوں حتّٰی کہ ان دونوں کو ایک دوسرے کے فتنے میں مبتلا کر د یتا ہوں (۲)جب بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے عہد کریں اسے پورا کریں اور (۳)جب  بھی صدقہ کرنے کے لئے  مال نکالیں تو اسے خرچ کردیں کیونکہ جب کوئی شخص صدقہ کا مال الگ کرکے رکھتا ہے اور اسے خرچ نہیں کرتا تو  وہاں بھی اس کے ساتھ میں خود ہو تا ہوںمیرے  کا رندے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابی داود،کتاب الوتر،باب فی الاستعاذة،۲/ ۱۳۲،حديث:۱۵۵۱،دون ذکر’’وھنی‘‘
2…الترغيب والترهيب،کتاب الحدود وغيرها،الترهيب من شرب الخمر.....الخ،۳/ ۲۰۴،حديث:۳۶۱۵