Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
306 - 1245
باب نمبر2:		شرم گاہ کی شہوت کا بیان(اس میں تین فصلیں ہیں)
پہلی فصل:			شرم گاہ کی شہوت کی حقیقت
خواہِشِ جِماع کے دوفائدے:
	جان لو کہ انسان پردو فائدوں کے سبب جماع کی خواہش مسلط کی گئی ہے: (۱)…لذت کا حُصُول (۲)…وُجُودِ انسانی کی بَقا۔
	جماع میں لذت کا حصول اس لئے ہے کہ جب انسان اس کی لذت کو پائے تو آخرت کی لذتوں کو اس پر قیاس کرے۔ اگر جماع کی لذت دیر پا ہوتی تو تمام جسمانی لذتوں میں سب سے زیادہ قوی ہوتی۔ جیسے آگ  اور اس کی تکلیفیں جسم کی تکالیف میں سب سے بڑی ہیں۔  رغبت دلانا اور ڈرانا لوگوں کو ان کی سعادتوں کی طرف لے جاتا ہےاور یہ ترغیب وترہیب قابِل احساس تکلیف اور قابِل اِدْراک لذّت ہی کے ساتھ ممکن ہےکیونکہ جس چیز کو چکھ کر نہ جانا جائے تو اس کی طرف شوق نہیں بڑھتا ۔ دوسرا فائدہ انسانی وُجُود کی بَقا ہے۔
	شرم گاہ کی شہوت  کے یہ فائدے ہیں لیکن اگر اس شہوت پر قابونہ پایاجائے اور اسے دبا کر اعتدال کی حد میں نہ رکھا جائے  تواس کے سبب وہ آفات پیدا ہوتی ہیں جو دین اور دنیا کو برباد کردیتی ہیں۔قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖۚ (پ۳،البقرة:۲۸۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اے رب ہمارے اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار(طاقت) نہ ہو۔
	کہا گیا ہے کہ اس کا معنی شہوت کی شدت ہے۔(1)
دو تہائی عقل چلی جاتی ہے:
	منقول ہے کہ جب انسان کےعضو مخصوص میں انتشار ہوتا ہے تو اس کی دو تہائی عقل چلی جاتی ہے۔
	حضورنبیّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یوں دعا کیا کرتے:”اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ سَمْعِيْ  وَ بَصَرِیْ وَقَلْبِیْ وَھَنِیِّ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اس مقام پر موجودایک آیت اور اس کی تفسیر کا ترجمہ نہیں دیا گیا اس کی عربی عبارت کتاب کے آخر میں دے دی گئی ہے۔