خوشی ہو تی ہے کہ اس سبب سے وہ پہچا نا جائے پس وہ خواہشات سے بچنے کے معاملےمیں لوگوں کے درمیان مشہور ہوجا تا ہے۔اس طرح اس نے کمزور خواہش یعنی کھانے کی خواہش کی تو مخالفت کی مگر اس خواہش کی اطاعت کی جو اس سے بھی زیادہ بری ہے یعنی جاہ و مرتبہ کی خواہش اور یہی پوشیدہ خواہش ہے لہٰذا جب وہ اس خواہش کو اپنے اندر محسوس کرے تو اسے ختم کردے کہ اسے ختم کرنا کھانے کی خواہش کوختم کرنےسے زیادہ ضروری ہے۔ ایسے شخص کے لئے کھالینا ہی زیادہ بہتر ہے۔
حضرت سیِّدُناابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: جب تمہیں کوئی ایسی پسندیدہ چیز دی جائے جسے تم چھوڑ چکے ہو تواس میں سےکچھ نکال لواورنفس کو اس کی خواہش کے مطابق زیادہ نہ دوتو تم اپنے نفس سے خواہش کو دور کرنے والے ہوجاؤ گے اور جب تک نفس کو اس کی خواہش نہیں دو گے اس وقت تک تم اس کے لئے پریشا نی کا باعث بنے رہو گے۔
خواہش پو شیدہ رکھنے پر نفس کو سزا:
حضرت سیِّدُنا امام جعفر بن محمد صادق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:’’ جب مجھےکوئی پسندیدہ چیز دی جاتی ہے تو میں اپنے نفس کی طرف دیکھتا ہوں اگر وہ اپنی خواہش ظاہر کردیتا ہے تو اسے کچھ کھلا دیتا ہوں اوریہ اس کو نہ کھلانے سے بہتر ہے او ر اگر وہ اپنی خواہش پو شیدہ رکھتا ہے اوراس سے دوری کا اظہار کرتا ہے تو میں اسےچھوڑکرنفس کوسزا دیتا ہوں اور اسے کچھ نہیں دیتا۔‘‘ یہ اس پوشیدہ خواہش پر نفس کو سزا دینے کاطریقہ ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جو شخص غذا کی خواہش کو چھوڑ کر ریا کی خواہش میں پڑجائےتووہ اس شخص کی طرح ہے جو بچھو سے بھاگ کر سانپ کی پناہ لے لےکیو نکہ ریا کی خواہش غذا کی خواہش سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی توفیق دینے والا ہے۔
﴿ صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد ﴾
﴿ تُوْبُوْااِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُاللہ ﴾
﴿ صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد ﴾