Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
304 - 1245
 کنارہ کشی اختیار کئے ہوئے تھے۔‘‘ اس  سے ان کا مقصد صرف اپنے حال کو چھپانا تھا تاکہ غافل لوگوں کے دل ان سے پھر جائیں اور وہ ان کی حالت کے بارے میں پریشانی کا شکار نہ ہوں۔
زُہْد کی اِنْتِہا:
	زہد کی انتہا یہ ہے کہ جس چیز سے کنارہ کشی اختیار کی جائے لوگوں کے سامنے اسی کا اظہار کیا جائے(تاکہ لوگوں کو اس کے زہد کا علم نہ ہوسکے)، یہ زہد میں بھی زہد ہے اور یہ صدیقین کا عمل ہے کیونکہ یہ دو صدق جمع کرنا ہے جیساکہ پہلے دو کِذب کو جمع کیا گیا تھا۔ عارف نے اپنےنفس پر دو بو جھ اٹھائے (ایک تو اپنے کو  خواہش سے روکا اور دوسرا مخلوق کی نظروں میں اپنے کو گرایا) اور دو مرتبہ اپنے نفس کو صبر کا پیالہ پلایا ایک مرتبہ اس چیز کو چھوڑ کر اور دوسری مرتبہ لوگوں کے طعن کے باعث۔ تو یقیناً ايسےلوگوں کو ان کے صبرکےبدلے دُگنا اجر دیا جائے گا  اور یہ اس شخص کے طریقے کی طرح ہے جسے علانیہ دیا جائے تو لے لےپھرپو شیدہ طور پراسے واپس کر دے تاکہ لوگوں کےسامنے لینے کے ذریعے نفس کو ذلیل کرکے اس کا زور کم کرے اور پوشیدہ طور پرفَقر اختیار کرکے نفس کو کمزور کرے۔
دوسروں کی نسبت اپنی اصلاح زیادہ اہم ہے:
	جو شخص یہ طریقہ اختیار نہ کرسکے اسے چاہئے کہ اپنی خواہش اور اپنے عیب کو ظاہر کرتا رہے سچائی اسی میں ہےاوراسے شیطان کی اس بات سےدھوکے میں نہیں رہنا چاہئے  کہ’’اگر تو اسے لو گوں کے سامنے ظاہر کردے گاتو لوگ تیری پیروی کریں گے لہٰذا تو لوگوں کی اصلا ح کے لئے اسے چھپائے رکھ۔‘‘ کیو نکہ اگر اس کا قصد لو گوں کی اصلاح کا ہو تا تو دوسروں کی بَنِسْبَت اپنی اصلاح  اس کے لئےزیادہ اہم ہےبلکہ ا س کا قصد تو محض ریا کاری کا ہےاوردوسروں کی اصلاح کی آڑ میں شیطان اس کے سامنے اصل حقیقت کو چھپا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے  کہ اسے ظاہر کر نا اس پر بھاری پڑتا ہےاگر چہ اسے یہ بات معلوم بھی ہوجائے کہ جو بھی اس پر مُطَّلَع ہوگا وہ عمل کے معاملے میں اس کی پیروی نہیں کر ے گا یاجواس کے تارکِ شہوات ہونے کا اعتقاد رکھے گاوہ خواہشات سے نہیں رکے گا۔
٭…دوسری آفت: یہ ہے کہ نفس پسندیدہ چیزوں کو چھوڑنے پر قادرتو ہوتا ہےلیکن اسےاس بات سے