٭…پہلی آفت:نفس کوکسی پسندیدہ شے کی خواہش ہو رہی ہو تو اسے چھوڑنے پر قدرت نہیں ہو تی لیکن وہ چاہتا ہےکہ کسی کو یہ معلوم نہ ہو کہ اسے اس کی خواہش ہے پس وہ خواہش کو چھپاتا ہے اور تنہائی میں ایسی چیزیں کھاتا ہے جو لوگوں کے سامنے نہیں کھا تااور یہی شِرکِ خفی(یعنی رِیاکاری)ہے۔ ایک عالم صاحب سے ایک زاہد کےمتعلق پوچھا گیا تو وہ خاموش رہے۔عرض کی گئی:”کیا آپ انہیں قابِل اِعْتِراض سمجھتے ہیں؟“ ارشاد فرمایا:’’یہ خلوت میں ایسی چیزیں کھاتا ہےجو لوگوں کے سامنے نہیں کھاتا۔‘‘اور یہ بہت بڑی آفت ہے بلکہ بندے کا حق یہ ہے کہ جب وہ پسندیدہ اور مرغوب چیز کے کھانے میں مبتلا ہو تو اسےظاہر کردے کیو نکہ یہ حالت کی سچائی میں سے ہے اور حالت کی سچائی اعمال کے ذریعے کئے جانے والےمجاہدات کےفوت ہوجانے کا بدل ہوجائےگی کیو نکہ خامی کو چھپانا اور اس کی ضد یعنی کمال (اور اخلاص)کو ظاہر کرنامزید دو نقصان ہیں اور جھوٹ بولنا اورساتھ ساتھ اس کو چھپانا،یہ دو جھوٹ ہیں تو وہ دو وجوہات کی وجہ سےناراضی کا مستحق ٹھہرا اب اس سے راضی اورخوش بھی اسی وقت ہوا جائے گا جب وہ دو سچی توبہ کرے۔ یہی وجہ ہے کہ منافقین کے لئے سخت سزا بیان کی گئی۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ فِی الدَّرْکِ الۡاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ(پ۵،النسآء:۱۴۵)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں۔
کیونکہ کافر کفر کرتا ہے اوراسے ظاہر کرتا ہے جبکہ منافق کفرکرتا ہے اور اسے چھپاتاہےتو اس کا اپنے کفر کو چھپانا ایک دوسرا کفر ہے۔ منافق نےاپنے دل کی طرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےنظر کرنے کو حقیر سمجھا اور مخلوق کے دیکھنے کو بڑا خیال کیا اور یوں اس نے صرف اپنے ظاہر سے کفر کو مٹایا۔
عارفین ریا کاری میں مبتلا نہیں ہوتے:
عارفین من پسند چیزیں کھانے بلکہ گناہوں تک میں مبتلا ہوجاتے ہیں لیکن وہ ریا کاری،دھوکا دینے اور چھپانے جیسی برائیوں میں مبتلا نہیں ہوتے بلکہ عارف کا کمال یہ ہے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطر خواہشات کو چھوڑ دے اور مخلوق کے دلوں سے اپنے مقام و مرتبے کو گرانے کے لئے اپنے نفس کی خواہش کو ظاہر کر دے۔ جیساکہ’’ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ من پسند چیزیں خرید کر گھر میں لٹکا دیتے تھے حالانکہ وہ ان سے