شیخ مرید کو ہر وقت ادب سکھاتا رہے:
حضرت سیِّدُناابراہیم خَوّاص عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ اپنے مرید کو جس ریاضت کا حکم دیتے خود بھی اس کے ساتھ اس میں شریک ہوتےتاکہ اس کے دل میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ جوکام شیخ خود نہیں کرتے مجھے اس کا حکم کیوں دیتے ہیں اوریوں وہ ریا ضت چھوڑبیٹھے۔
قوی شخص جب دوسروں کو ریاضت سکھانے اور ان کی اصلاح کرنے میں مشغول ہوتوان کی طرح عمل کرتے ہوئے اور انہیں سعادت کی طرف لے جانے میں نرمی برتتے ہو ئےاُسے کمزور لوگوں کے درجہ میں اترنا ضروری ہےاور اس میں انبیائے کرام اور او لیائے عظام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی بڑی آزمائش ہے۔ جب اعتدال کی حد ہر شخص کے حق میں پوشیدہ ہےتو عقلمندی اوراحتیاط اسی میں ہے کہ شیخ مرید کو کسی بھی حا لت میں نہ چھوڑے۔
امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ عَنْہ نے بیٹے کو ادب سکھایا:
یہی وجہ ہے کہ حضرت سیِّدُناعمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے صاحب زادے حضرت سیِّدُنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کواس طرح ادب سکھایاکہ آپ ان کے پاس تشریف لے گئے،انہیں گھی سےپکا ہوا گو شت کھاتے ہوئے پایا تو ان پر دُرّہ بلند کرتے ہوئے فرمایا:’’ایک دن گوشت اورروٹی، ایک دن روٹی اور دودھ، ایک دن روٹی اور گھی، ایک دن روٹی اور زیتون، ایک دن روٹی اور نمک اورایک دن سالن کے بغیر صرف روٹی کھاؤ‘‘اوراعتدال بھی یہی ہے۔ چنانچہ ہمیشہ گوشت اور من پسند چیزیں کھانا،اِفراط(یعنی زیادتی) اور اسراف ہے اور بالکل گوشت چھوڑدینا تفریط (یعنی تنگی وکمی) ہے اور ان دونوں کے مابین درمیانی راہ ہے۔
پانچویں فصل: پسندیدہ اشیاء چھوڑنے اور کم کھانے کے باعث
پیدا ہونے والی ریاکاری کی آفت کا بیان
دوبڑی آفتیں:
جان لوکہ خواہشات کو چھوڑنے والے پر دو بڑی آفتیں آتی ہیں جو کہ حقیقت میں پسندیدہ اشیاء کھانے سے بھی بڑھ کر ہیں۔