شیطان کے لئے بے وقوفوں کے ساتھ کھیلنے کا یہ ایک وسیع میدان ہے۔ کھانے اور روزہ رکھنے میں کوئی مقدار مقرر نہ کرنا اور خواہشات کے مطابق کھانا اسی شخص کو زیب دیتا ہےجو وِلایت و نَبوَّت کے نور سے دیکھتا ہے، اس کے اور اس کے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان کشادگی اورتنگی بھی علامات ہوتی ہیں(یعنی کھانامیسر ہونا اور نہ ہونا بھی علامت ہے) اور یہ اسی صورت میں ہوتا ہے جب نفس خواہشات اور عادات کی پیروی سے مکمل طور پر نکل جائےحتّٰی کہ اس کا کھانابھی رِضائے الٰہی کی نیت سے ہو تا ہےجیسا کہ کھانے سے بچنا رضائے الٰہی کے لئے ہوتا ہے یوں وہ اپنے کھانے اور نہ کھانے کے معاملےمیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطر عمل کرتا ہے۔
سیِّدُنافاروق اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ جیسی دانائی سیکھو:
ایسے افرادکوحضرت سیِّدُنا عمر فارو قِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے دانائی اور دور اندیشی سیکھنی چاہئے کہ آپ کو یہ معلوم تھا کہ حضورنبیّ کریم،رءُ وْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شہد پسند فرماتے اور اسے تناول بھی فرماتے تھے(1) پھر بھی خودکو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر قیاس نہیں کیا بلکہ جب آپ کی بارگاہ میں شہد ملا ٹھنڈا پانی پیش کیا گیا تو برتن کو اپنے ہاتھ میں گھمانے لگے اور ارشاد فرمایا: اسے پیئوں گا تو مزہ تھوڑی دیر میں چلا جائے گا لیکن اس کا مواخذہ باقی رہے گا،اس کا حساب مجھ سے دور کردو ۔چنانچہ آپ نے اسے چھوڑدیا۔
بھوک کے معاملے میں مرید کی تربیت:
شیخ کے لئے جائز نہیں کہ مرید کے سامنے ان اَسرار کوبیان کرےبلکہ صرف بھوک کے فضائل ذکر کرے اور اسے اعتدال کی طر ف بھی نہ بلائے کیو نکہ جس کی طرف بھی وہ اسے بلائے گا اس کو کرنے میں مرید لازمی طورپر ناکام رہےگا،لہٰذا مناسب یہ ہے کہ وہ اسے بھوک کا انتہائی درجہ اختیار کرنےکی دعوت دےحتّٰی کہ اسے اعتدال حاصل ہوجائے۔اس کےسامنےیہ بات ذکر نہ کرےکہ عارفِ کامل ریاضت سے بے نیاز ہوتا ہے کیو نکہ اس طرح اسے پھنسانے کے لئے شیطان کو جال مل جائے گا اور ہر وقت اس کے دل میں وسوسہ ڈالے گا کہ تو عارفِ کامل ہے، تجھےمزید معرفت وکمال کی ضرورت نہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری ،کتاب الاشربة،باب الباذق ومن نهی عن کل مسکر...الخ،۳/ ۵۸۵،حديث:۵۵۹۹