اسراف سے بے خوفی:
ایک دن حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے بہت سا کھانا پکوایا اور چند لوگوں کو دعوت دی جن میں حضرت سیِّدُنا اِمام اَوزاعی اور حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوری عَلَیْہِمَا الرَّحْمَہ بھی تھے۔ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے کہا: اے ابواِسحٰق!کیا آپ کو اس کے اسراف کا خوف نہیں؟ آپ نے فرمایا: کھانے میں اسراف نہیں ہوتا، اِسراف تو لباس اور مال و متاع میں ہوتا ہے۔
سمجھدار اور بے وقوف کی سوچ میں فرق:
جو شخص مَحْض تقلید کرتے ہوئےسماع(سننے) اورنقل سے علم حاصل کرتا ہے وہ جب حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کا یہ معا ملہ دیکھتا ہےاور حضرت سیِّدُنا مالک بن دِینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار کا یہ قول سنتا ہے’’20سال سے میرے گھر میں نمک داخل نہیں ہوا۔“ اورحضرت سیِّدُنا سَری سَقَطِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے بارے میں یہ سنتا ہے کہ انہیں 40سال تک کھجور کے شیرے میں گاجر ڈبو کر کھا نے کی خواہش رہی لیکن انہوں نے نہیں کھایا۔تو یہ گمان کرتا ہے کہ ان واقعات میں تضادہے،یہ ایک دوسرے کےخلاف ہیں اور حیران ہوجاتا ہے اوراس بات کا یقین کر لیتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک خطا پر ہے۔لیکن علم کے اسرار و رُمُوز سے با خبرشخص جانتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک حق پرہے کیونکہ اِختلاف اَحوال کے اعتبار سے ہے۔
پھر ان مختلف احوال کو محتاط و سمجھدار آدمی سنتا ہے یادھوکے میں مبتلابے وقوف شخص۔ محتاط ان واقعات کو سن کر کہتا ہے:میں عارِفِیْن میں سے تو ہوں نہیں کہ اپنے نفس سے نرمی برتوں اور میرا نفس حضرت سیِّدُنا سَری سَقَطِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اور حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار سے زیادہ اطاعت گزار بھی نہیں ہے جبکہ یہ حضرات تو خواہشات سے بچنے والے تھے۔لہٰذاوہ ان کی پیروی کر تاہے۔ دھوکے کا شکار شخص کہتا ہے:میرا نفس حضرت ابراہیم بن ادہم اور حضرت معروف کرخی کے نفس سے زیادہ نافرمان نہیں ہے لہٰذا میں ان کی پیروی کرتے ہوئےاپنے کھا نے کی مقدار مقرر نہیں کروں گا اور میں بھی اپنے مولا عَزَّ وَجَلَّ کے گھر کا مہمان ہوں، مجھے اعتراض سے کیا واسطہ؟پھر اگر کوئی شخص اس کےحق یااس کی عزّت کرنے یا مال اور جاہ ومرتبہ کے سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی کرتا ہے تو اس پر قیامت آ جا تی ہےاور اعتراض کرنے لگتا ہے۔