Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
30 - 1245
 نام سے پکارا جائے جیساکہ حضرت سیِّدُنا یُوسُفعَلَیْہِ السَّلَامکا دیدار کرنے والی عورتیں بےساختہ پکار اٹھیں:
مَا ہٰذَا بَشَرًا ؕ اِنْ ہٰذَاۤ اِلَّا مَلَکٌ کَرِیۡمٌ ﴿۳۱﴾ (پ۱۲،يوسف:۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:یہ تو جنس بشر سے نہیں یہ تو نہیں مگر کوئی مُعَززفرشتہ۔
	اس کے برعکس جو اپنی کوششیں بدنی خواہشات پوری کرنے میں خرچ کردے اور جانوروں کی طرح کھائے تو ایسا شخص جانوروں ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور وہ بیل کی طرح ناسمجھ، خنزیر کی طرح خواہش پرست، کتے بلی کی طرح خونخوار، اونٹ کی طرح کینہ پرور، چیتے کی طرح متکبر یا لومڑی کی طرح دھوکے باز بن جاتا ہے اور اگر یہ تمام صفات اس میں جمع ہوجائیں تو  شیطان کی طرح سرکش ہوجاتا ہے۔ 
	اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قرب پانے کے لئے اعضاء اور حواس سے مدد چاہنا یقیناً ممکن ہے جیساکہ ہم ”شکر کے بیان“میں اسے ذکر کریں گے۔ تو جس نے اعضاء اور حواس اس کام کے لئے استعمال کئے وہ کامیاب ہے اور جس نے اس کے خلاف عمل کیا وہ ناکام ونامراد ہے۔
حقیقی سعادت و کامیابی:
	انسان کے لئے حقیقی سعادت و کامیابی اس میں ہے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کو اپنا مقصد، آخرت کو اپنا مستقل ٹھکانا، دنیا کو عارضی منزل، بدن کو سواری اور اعضاء کو اپنا خادم تصور کرے۔
انسانی جسم کی مثال:
	انسانی جسم کی مثال ایک سلطنت کی سی ہے جس کا وسط دل ہے اور دل میں پائی جانے والی قوتِ مُدْرِکہ (اشیاء کی حقیقتوں کا ادراک کرنے والی قوت جسے  ربّانی لطیفہ بھی کہتے ہیں)اس سلطنت کا بادشاہ ہے اوردماغ کے اگلے حصے میں پائی جانے والی قوتِ خیالیہ بادشاہ کی قاصد ہے کیونکہ حواس کے ذریعے حاصل ہونے والے تمام خیالات اسی کے پاس جمع ہوتے ہیں اور دماغ کے پچھلے حصے میں پائی جانے والی قوتِ حافظہ بادشاہ کی خزانچی ہے (جو خیالات کو محفوظ کرلیتی ہے) اور زبان اس کی ترجمان، اعضاء اس کی تحریر (یعنی بادشاہ کے حکم پر عمل کرنے والے) اور حواس خمسہ اس کے جاسوس ہیں جو مختلف خبریں دینے پر مُقَرَّر ہیں، آنکھ رنگوں کے متعلق، کان آوازوں