اب کوئی مقدار مقرر ہے نہ وقت:
حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللہ تُستَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے بارے میں منقول ہے کہ آپ سے پوچھا گیا: راہِ سلوک کی ابتدا میں آپ کی کیا حالت تھی؟ آپ نے مختلف ریاضتوں کے بارے میں بتایا ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ ایک مدت تک بیری کے پتے بطور خوراک استعمال کرتےرہےاور ایک ریاضت یہ تھی کہ آپ 3سال تک اِنْجِیرکوٹ کوٹ کر کھاتے رہے اور فرمایا: میں 3سال تک 3درہم کی غذا پر گزارہ کرتا رہا۔ پوچھا گیا: اس وقت آپ کی کیفیت کیا ہے؟ ارشاد فرمایا: اب نہ کوئی مقدارمقرر ہے نہ وقت۔
آپ کے کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ اب میں زیادہ کھاتا ہوں بلکہ مراد یہ ہے کہ جو میں کھا تاہوں اس کی میں نے کوئی ایک مقدار مقرر نہیں کی ہے۔
مولا عَزَّ وَجَلَّ کے گھر کا مہمان:
حضرت سیِّدُنا معروف کَرْخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی خدمت میں اچھے اورعمدہ کھانے تحفۃً بھیجے جاتے تو آپ انہیں تناول فرمالیتے۔عرض کی گئی: آپ کے(مسلمان)بھائی بِشْرحافی تو اس قسم کے کھانے نہیں کھاتے۔ ارشاد فرمایا: میرے بھائی بشر کو تقوٰی نے روک رکھا ہے اور مجھے معرفت نے وسعت اور کشا دگی دے رکھی ہے پھر فرمایا: میں تو اپنے مولا عَزَّ وَجَلَّ کے گھر میں مہمان ہوں جب وہ مجھے کھلاتا ہے تو کھالیتا ہوں اور جب بھوکارکھتا ہے تو صبر کرتا ہوں۔ مجھے اعتراض اور فیصلہ کرنے سے کیا سرو کار۔
مَردوں کی طرح صَبْر:
حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نےاپنے ایک (مسلمان)بھائی کی طرف کچھ درہم بھیجے اور ارشاد فرمایا: ہمارے لئے ان درھموں سے مکھن،شہد اور میدے کی روٹی لے لو۔ عرض کی گئی: اے ابواسحاق!آپ یہ سب کھائیں گے؟ ارشاد فرمایا:تم پر تعجب ہے!جب ہم پاتے ہیں تو مردوں کی طرح کھاتے ہیں اور جب نہیں پاتے تومردوں کی طرح صبر کرتے ہیں۔