Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
298 - 1245
 دھوکے میں مبتلا شخص اپنے متعلق یہ گمان کرتا ہے کہ وہ صدیق ہے،اسے نفس کی تادیب اور تربیت کی ضرورت نہیں اور وہ اپنے نفس کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے اوریہ بہت بڑا دھوکہ ہے اور یہی زیادہ غالب ہے کیو نکہ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ نفس مکمل طور پر تربیت یا فتہ  ہو چکا ہو حالانکہ اکثر تربیت نہیں ہوئی ہوتی۔ ایسا شخص جب صدیق کو اپنے نفس کے ساتھ نرمی برتتا دیکھتاہےتو خود بھی اپنے نفس کے ساتھ نرمی برتنے لگتا ہےجیسے کوئی مریض صحت مند شخص کو کچھ کھاتا دیکھے تو اپنے آپ کو صحت مند تصور کرکے وہی کچھ کھانے لگے اور یوں ہلاک ہوجائے۔
سرکار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے کھانے کا وقت مُقَرَّر نہ تھا:
	اور رہی وہ بات کہ جو اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ مخصوص وقت میں مخصوص غذا کی تھوڑی سی مقدار مقرر کی جائے تو یہ فی نفسہٖ مقصود نہیں بلکہ مقصود تو محض اس نفس کا مُجاہَدہ ہے جو حق سے دورہے اور رتبۂ  کمال کو نہیں پہنچا کیو نکہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کھانے کی نہ تو مقدارمعیّن تھی اور نہ ہی وقت  مقرر تھا۔ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں:صاحِبِ معراج صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم روزےرکھتے رہتے حتّٰی کہ ہم کہنے لگتے کہ آپ روزہ نہیں چھوڑیں گے اور(کبھی) روزہ رکھنا چھوڑ دیتے حتّٰی کہ ہم کہنے لگتے: اب آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔(1)
	آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنےاہل خانہ کے پاس تشریف لاتے اور پو چھتے: کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہوتا تو تناول فرمالیتے، اگرنہ میں ہوتا تو فرماتے: ایسا ہے تومیرا روزہ ہے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے کوئی چیز پیش کی جاتی تو فرماتے:میرا ارادہ تو روزےکاتھا۔پھراسےتناول فرمالیتے۔ ایک دن آپ تشریف لائے اور ارشاد فرمایا:’’میرا روزہ ہے‘‘ حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ عنہا نے عرض کی: ہمیں حَیْس(یعنی خاص قسم کا حلوہ) تحفہ بھیجا گیا ہے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: میرا ارادہ روزے کا تھا لیکن تم اسے قریب لے آؤ۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری،کتاب الصوم،باب صوم شعبان،۱/ ۶۴۸،حديث:۱۹۶۹
2…سنن ابی داود،کتاب الصوم،باب النية فی الصيام،۲/ ۴۸۴،حديث:۲۴۵۵
	السنن الکبریٰ للبيهقی،کتاب الصيام،باب صيام القطوع ...الخ ،۴/ ۴۵۶،حديث:۸۳۴۰،۸۳۴۱