ہوا۔ اسی بات کو حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے فرمان میں اس طرح تعبیر کیا ہے:”خَیْرُ الْاُمُوْرِ اَوْسَاطُھَا یعنی بہترین امور وہ ہیں جن میں میا نہ روی ہو۔“(1)
اس فرمانِ باری تعالیٰ میں اسی جانب اشارہ ہے:
کُلُوۡا وَاشْرَبُوۡا وَلَا تُسْرِفُوۡا ۚؕ (پ۸،الاعراف:۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان: کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو۔
نیز جب انسان کو بھوک اور شکم سیری کا احساس نہ ہو تو اس کے لئے عبادت کرنا اور غوروفکرکرنا آسان ہوجاتا ہےاور وہ اپنے آپ میں ہلکا پن محسوس کرتا ہےاور ہلکے پن کے باعث عمل کے معاملے میں قوی ہوجاتا ہے لیکن یہ طبیعت کےمعتدل ہونے کے بعد ہو تاہےاورراہِ سلوک کی ابتدا میں جب کہ نفس سرکش ہوتا اور خواہشات کا شوق رکھتا ہےنیز افراط کی طرف مائل ہوتا ہے تو اعتدال اس کو نفع نہیں دیتا بلکہ ضروری ہے کہ نفس کو بھوکا رکھ کر خوب مشقت میں ڈالا جائے جیسا کہ سرکش چوپائے کوبھوکا رکھ کراور مارپیٹ وغیرہ کے ذریعےاعتدال پر لانے کی کوشش کی جاتی ہے،جب وہ قابو میں آکر اعتدال پر آجاتا ہے تو اب اسے تکلیف دینے کا عمل چھوڑ دیا جاتا ہے۔
اسی راز کے سبب شیخ اپنے مُرید کو ان کاموں کا حکم دیتا ہے جنہیں وہ خود نہیں کررہا ہوتا۔ چنانچہ وہ اسے بھوکا رہنے کا کہتا ہے حالانکہ خود بھوکا نہیں رہتا،اسےپھل اور من پسند چیزیں کھانے سے منع کرتاہے حالانکہ خود ان سے نہیں رکتا کیونکہ وہ اپنے نفس کی تادیب و تربیت سے فارغ ہوچکا اور اسے مَشَقَّت میں ڈالنےسے بےنیازہوچکاہے اور چونکہ نفس کے اکثراحوال عبادت سے بچنے ،حرص ،شہوت اورسرکشی پرمشتمل ہیں، لہٰذا اس کے لئے زیادہ منا سب ایسی بھوک ہے جس کی تکلیف اکثر احوال میں اسے محسوس ہو تاکہ نفس کا زور کم پڑجائے۔ مقصود یہ ہے کہ نفس کا زور ٹوٹ جائےحتّٰی کہ اس میں اعتدال پیدا ہو جائے، اس کے بعدیہ غذا میں بھی اعتدال کی طرف لوٹ جائے۔
ہمیشہ کی بھوک سے بچنے والے دوافراد:
راہِ آخرت پر چلنے والوں میں سے صرف دو قسم کے لوگ ہی ہمیشہ بھوکا رہنے سے بچتے ہیں، ایک صدیق اور دوسرا دھوکے میں مبتلا بے وقوف۔صدیق تو اس لئے کہ اس کےنفس کو سیدھی راہ پر ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے اور اسے اس بات کی ضرورت نہیں ہوتی کہ بھوک کی سختیوں کے ذریعےاسےحق کی طرف گامزن کیا جائے۔جبکہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الايمان،باب فی الصيام،۳/ ۴۰۲،حديث:۳۸۸۸عن مطرف بن الشخير