Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
296 - 1245
کھانا اتناکھائے کہ مِعْدَہ پر بوجھ محسوس نہ ہو:
	جب تمہیں یہ بات معلوم ہوگئی تو جان لو  کہ مُعْتَدِل طبیعت کے حوالے سے افضل یہ ہےکہ وہ اس طریقے پرکھائے کہ اسے معدے پر بو جھ محسو س نہ ہو اور نہ ہی بھوک کی تکلیف کا احساس ہو بلکہ وہ اپنے پیٹ ہی کو بھول جائے  کہ بھوک اس میں بالکل اثر نہ کرے کیونکہ کھا نے سےمقصود زندگی کو باقی رکھنا اور عبادت پر قوت حاصل کرناہےاور معدےکا بو جھ عبا دت سے روکتا ہے اور بھوک کی تکلیف بھی توجہ بٹا تی اور عبا دت سے روکتی ہے۔تومقصود یہ ہے کہ انسان اس طریقے پر کھائےکہ جو چیز کھائی ہے اس کا اثر باقی نہ رہے تا کہ وہ فرشتوں کی مثل ہوجا ئے کیو نکہ وہ کھانے کے بوجھ اور بھوک کی تکلیف سے پاک ہیں اور انسان کی انتہائی فضیلت یہ ہے کہ وہ ان کی اقتدا کرےاور جب انسان شِکمسیری اور بھو ک دونوں سے بچ نہیں سکتا تو دونوں طرفوں سے دوری کی حالت مِیانہ رَوی یعنی اِعْتِدال ہے۔
مِیانہ رَوی والے اُمُور بہترین ہیں:
	باہم مخالف دونوں طرفوں یعنی افراط وتفریط سے بچنے اور درمیانی درجے کی طرف بندے کے لوٹنے کی مثال اس طر ح ہے کہ آگ سےگرم کئے ہوئے ایک گول کڑےکو زمین پر رکھا جائے اور اس کے درمیان  میں  چیو نٹی کو ڈال دیا جائے، چیونٹی اس کی گرمی سے بھاگے گی  اورچونکہ وہ کڑا چیو نٹی کو چاروں طرف سے گھیرے ہو ئے ہےتو چیو نٹی اس سے نکلنے پر قادر نہیں ہو سکے گی لہٰذا وہ بھاگتی رہے گی حتّٰی کہ اس کے مرکز یعنی درمیان میں آکر ٹھہر جائے گی، اب اگر وہ مرتی بھی ہے تو درمیان میں مرے گی کیو نکہ کڑے میں موجود گرمی سے سب سے زیادہ دوردرمیان ہے۔ تو جس طرح کڑے نے چیو نٹی کو چاروں طرف سے گھیرا ہو اہے اسی طرح خواہشات نے بھی انسان کو چاروں طرف سے گھیرا ہو ا ہے جبکہ  ملائکہ اس حلقے سے باہر ہیں اور انسان کے لئے ان سے نکلنے کا کوئی ذریعہ نہیں حالانکہ انسان ان خواہشات سے چھٹکارا پانے میں فرشتوں کی مثل ہونا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ خواہشات سے دور ہونے میں اس کے احوال بھی ان کے جیسے ہو جائیں اور کناروں سے زیادہ دُور درمیان ہے،لہٰذا ایک دوسرے کے مخالف ان تمام احوال میں درمیان مطلوب