Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
295 - 1245
چوتھی فصل:	        بھوک کے حکم وفضیلت کے بارے میں اختلاف
اور لوگوں کے احوال
	جان لوکہ تمام امور اور اخلاق میں انتہائی مطلوب درمیانی در جہ ہے کیو نکہ کہا جاتا ہے:”خَیْرُ الْاُمُوْرِ اَوْسَاطُھَا یعنی بہترین امور وہ ہیں جن میں میانہ روی  ہو۔“میانہ روی کی دونوں ہی طرفیں(یعنی اِفراط وتفریط) قابل مذمت ہیں۔ بھوک کے فضائل میں جو باتیں ہم نے ذکر کی ہیں ان سے بسااوقات اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ اس مُعامَلے میں اِفراط مطلوب ہے حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔
شریعت کی پو شیدہ حکمت:
	شریعت کی حکمت کے اَسرار میں سے یہ بات ہے کہ ہر وہ چیز جس میں طبیعت انتہائی درجہ کو پسند کرے اور اس میں فوری یا آئندہ فساد کا اندیشہ ہو تو شریعت اس کام سے منع کرنے میں مبالغہ کرتی ہے جبکہ جاہل یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ ممکنہ حد تک طبیعت کے تقاضے کے خلاف کرنا ہی شریعت کو مطلوب ہے لیکن عالم یہ بات جانتا ہے کہ مقصود میانہ روی ہے کیو نکہ طبیعت جب خوب پیٹ بھر کر کھانا چاہتی ہے توشریعت بھی آخری حد تک بھوکا رہنے کی مَدْح و تعریف کرتی ہے حتّٰی کہ طبیعت ابھارتی ہے اور شریعت منع کرتی ہے،یہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف ہو تے ہیں اور یوں اِعْتِدال حاصل ہوجاتا ہے اور کوئی شخص اپنی طبیعت کی خواہش مکمل طور پر دبا دے یہ بہت ہی مشکل ہے۔ معلوم ہو ا کہ انسان بھوک کی آخری حد تک  نہیں پہنچ سکتا۔ اگر کوئی شخص اپنی طبیعت کا خلاف کرنے میں حد سے بڑھ جائے تو شریعت میں ایسی چیزیں بھی ملتی ہیں جو اس کی خرابی پر دلالت کرتی ہیں  جیسے کہ شریعت نے رات میں قیام کرنے اور دن کو روزہ رکھنے کی تعریف میں مبا لغہ کیا ہے لیکن جب حضورنبیّ رحمت،شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا حال معلوم ہوا کہ وہ ہمیشہ روزہ رکھتے ہیں اور پوری رات قیام کرتے ہیں تو آپ نے اس سے منع فرمادیا۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم،کتاب الصيام،باب النهی عن صوم الدهر...الخ،ص۵۸۶،حديث:۱۵۹