پسندیدہ کوئی پھل نہیں آیا۔“ آپ نے روٹی کو گویا پھل قرار دیا۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جائز نفسانی خواہشات کے معاملے میں غفلت برتنے اور ہر حال میں نفس کی پیروی کرنے کی کوئی گنجائش نہیں بندہ جس قدر اپنی خواہش کو پور اکرتا ہے اسی قدر اسے ڈرجانا چاہئے کہ بروزِ قیامت اس سے کہا جائے گا:
اَذْہَبْتُمْ طَیِّبٰتِکُمْ فِیۡ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمۡ بِہَا ۚ(پ۲۶،الاحقاف:۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:تم اپنے حصّہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے اور انھیں برت چکے۔
اورجس قدر وہ اپنے نفس سے جہاد کرکے اپنی خواہش چھوڑدے گا اسی قدر دارِ آخرت میں اپنی خواہشات سے لطف اندوز ہو گا۔ چنانچہ
چاول کی روٹی اور مچھلی:
ایک بصری بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ”میرے نفس نے مجھ سے چاول کی روٹی اور مچھلی کا مطالبہ کیا تو میں نے اسے نہ دیا۔ اس کا مطالبہ بڑھ گیا اور میں بھی 20سال تک نفس سے مجاہدہ کرتا رہا۔“ جب ان کا انتقال ہوا تو کسی نے انہیں خواب میں دیکھ کر پوچھا:”مَا فَعَلَ اللّٰهُ بِکَ؟ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟“ جواب دیا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جس قدر نعمتیں اور عزت مجھے عطا کی میں اسے بیان نہیں کر سکتا اور مجھے سب سے پہلے جو چیز دی گئی وہ چاول کی روٹی اور مچھلی تھی اور ارشاد ہوا کہ ”آج جتنا دل چاہے اپنی خواہش کومزے لے لے کرپورا کرو۔“
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
کُلُوۡا وَ اشْرَبُوۡا ہَنِیۡٓــًٔۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَـۃِ ﴿۲۴﴾ (پ۲۹،الحاقة:۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان: کھاؤ اور پیو رچتا ہوا صلہ اس کا جو تم نے گزرے دنوں میں آ گے بھیجا۔
بے شک بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن نےترکِ خواہشات(یعنی بھوک ،پیاس وغیرہ)کوآگے بھیجا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت سیِّدُناسلیمان دارنی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: کسی خواہش کو چھوڑدینا دل کے لئے ایک سال کے روزے اور قیام سے زیادہ نفع بخش ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں ایسے کام کرنے کی تو فیق عطا فرمائے جو اُسے راضی کردیں۔(اٰمین)