پر شکر کے زیادہ قریب ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے:”اَذِیْـبُوْا طَعَامَکُمْ بِالذِّکْرِ وَالصَّلَاةِ وَلَاتَنَامُوْا عَلَیْہِ فَـتَقْسُوَ قُلُوْبُکُمیعنی اپنے کھانے کو ذکر اور نماز کے ذریعے ہضم کرو اور کھانا کھا کرسو نہ جاؤ کہ اس طرح تمہارے دل سخت ہوجائیں گے۔“(1)
پیٹ بھر کر کھالوتو خوب عبا دت کرو:
چاہئے کہ کھانا کھانے کے بعد کم از کم چار رکعات نماز پڑھے یاسو مرتبہ تسبیح کرےیا قرآن پاک سے ایک جز پڑھے۔ حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی جب رات کو پیٹ بھرکر کھاتے تو شب بیداری کرتے اور جب دن میں پیٹ بھرکر کھاتے تو اس کے بعد نماز پڑھتے اور ذکر کرتےاورآپ فرمایا کرتے تھے کہ سیاہ فام کو پیٹ بھرکر کھلاؤ اور کام لے کر اسے تھکا دو اور کبھی فرماتے:گدھے کو پیٹ بھر کر کھلاؤ اور کام لیتے ہوئے اسے تھکادو۔
کھانے کے بجائے پھل کھا لے:
جب کبھی کھانا اور عمدہ پھل کھانے کو جی چاہے تو منا سب یہ ہے کہ روٹی نہ کھا ئے اور اس کے بدلے عمدہ پھلوں کو کھالے تا کہ یہی غذا بن جائیں انہیں بطور پھل ا ن کو شمار نہ کیا جائے اور نفس کی عادت اور خواہش جمع نہ ہوپائیں۔ حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللہ تُستَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے حضرت سیِّدُنا ابوالحسن علی بن سالمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ہاتھ میں روٹی اور کھجور دیکھی تو فرمایا:”پہلے کھجور کھالیجئے اگر یہ کافی ہوجائے تو ٹھیک ہے ورنہ اس کے بعدبقدر حاجت روٹی کھالیجئے گا۔“
پہلے ہلکی غذا کھانی چاہئے:
جب کبھی ہلکی اور بھاری غذا پائے تو پہلے ہلکی پھلکی غذا کھالے تاکہ اس کے بعد بھاری کی خواہش نہ رہے۔ اگر بھاری غذا پہلے کھائے گا تو ہلکی غذا بھی اس کے ہلکے پن کے باعث ضرور کھائے گا۔ایک بُزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے شاگردوں سے فرمایا کرتے کہ”خواہشات کے مطابق چیزیں مت کھاؤ، اگر کھا لو تو ان کی طلب میں نہ رہو، اگر طلب میں رہو تو ان سے محبت نہ کرو اورخاص قسم کی روٹی طلب کرنا خواہش ہے۔“
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:”عراق سے ہمارے پاس روٹی سے زیادہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الاوسط،۳/ ۴۰۴،حديث:۴۹۵۲