اور ان کا بچنا ان فوائد کے پیش نظر تھا جو ہم نے پیچھے ذکر کئے نیزان کے بچنےکا ایک سبب یہ بھی تھا کہ بعض اوقات انہیں خالص حلال چیز میسر نہیں ہوتی تو(پرہیز گاری کی بنا پر)وہ اپنے نفسوں کو صرف ضرورت کی مقدار کھانے کی اجازت دیتے اور یہ بات معلوم ہے کہ ضرورت کی چیزیں خواہشات نہیں ہوتیں۔
روٹی سے زائد چیز خواہش میں شامل ہے:
حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمایا:’’نمک بھی خواہش ہے کیو نکہ یہ روٹی پر اضافہ ہے اور جو چیز روٹی سے زائد ہو وہ خواہش ہے ‘‘یہ انتہائی تقوٰی ہے،لہٰذا جو صرف روٹی پر اکتفا نہیں کر سکتا اسے نہ تو اپنے نفس سے غافل ہونا چاہئے اور نہ ہی خواہشات میں منہمک ہونا چاہیے۔
انسان کے فضول خرچ ہونے کے لئے اتناہی کافی ہے کہ جس چیز کی اسے خواہش ہو اسے کھالے اورہر وہ کام کر گزرے جسے کرنے کی اسے چاہت ہو۔ مناسب یہ ہے کہ گوشت کھانے پر ہمیشگی نہ اختیار کی جائے۔
گوشت کھانا دل کی سختی کا سبب:
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: جو شخص 40دن تک گوشت کھانا چھوڑدے اس کی طبیعت و مزاج میں خرابی و بِگاڑ پیدا ہوجاتا ہے اور جو 40دن تک مسلسل گوشت کھاتا رہے اس کا دل سخت ہوجاتا ہے۔
کھاکر سوجانا دل سخت کرتاہے:
منقول ہے کہ ہمیشہ گوشت کھانا شراب کے چسکے کی طرح ایک چسکا ہے۔ جب انسان بھوکا ہو اور جماع کا دل بھی چاہے تو اس کے لئے مناسب نہیں ہے کہ کھانا بھی کھائے اورجماع بھی کرے اوراس طرح اپنے نفس کی دونوں خواہشیں پوری کردے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کا نفس اس پر قابو پا لے گا جبکہ نفس بعض اوقات کھانا اس لئے طلب کرتا ہے تاکہ بشاشت اور گرم جوشی کے ساتھ جماع کر سکے۔ بہتر یہ ہے کہ انسان پیٹ بھرا ہو نے کی حالت میں نہ سوئے کہ یوں وہ دو غفلتوں کو جمع کر لے گا اور اسے سستی کی عادت پڑ جائے گی نیز اس عمل کے باعث اس کا دل سخت ہوجائے گا بلکہ اسے چاہئے کہ نماز پڑھے یا بیٹھ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرے کہ یہ اس کی نعمت