زُہد کسے کہتے ہیں؟
ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا قاسِم جُوعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے زہد کے بارے میں پوچھا؟ آپ نے فرمایا:”تم نے اس کے بارے میں کیا کچھ سن رکھا ہے؟“ میں نے چند اقوال بیان کئے لیکن آپ خاموش رہے۔ میں نے عرض کی:”آپ کے نزدیک زہد کیا ہے؟“ارشاد فرمایا:”جان لو! پیٹ بندے کی دنیا ہے، جس قدر اسے اپنے پیٹ پر قابو ہوگا اسی قدر اسے زہد حاصل ہوگااور جس قدر اس کا پیٹ اس پر غالب ہوگا اسی قدر وہ دنیا کے شکنجے میں ہوگا۔“
تین مہنگی دواؤں کا نعمَ الْبَدَل:
حضرت سیِّدُنا بِشْر بن حارِث حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی ایک مرتبہ بیمار ہوئے تو طبیب عبدالرحمٰن کے پاس آئے اور پوچھا:”کھانے میں کون سی چیز میرے موافق رہے گی؟“ انہوں نے کہا:”آپ مجھ سے پو چھ تو رہے ہیں لیکن جب میں بیان کروں گا تو آپ قبول نہیں کر یں گے۔“ حضرت سیِّدُنا بشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی نے فرمایا:”آپ بیان کیجئے تاکہ میں سن لوں۔“ طبیب نے کہا:”سِکَنْجَبِین(ایک خاص مشروب )نوش فرمائیے، بِہْدانہ(یعنی ناشپاتی کابیج) چوسیں اور اس کے بعد مرغی کا اُبلا ہوا گوشت کھائیں۔“ آپ نے فرمایا:”کوئی ایسی چیز جانتے ہیں جو سِکَنْجَبِین سے کم قیمت اور اس کے قائم مقام ہو؟“ کہا:”نہیں۔“ آپ نے فرمایا:”میں جانتا ہوں۔“طبیب نے پوچھا:”وہ کیا ہے؟“ فرمایا: ”سرکہ کے ساتھ کاسْنی(ایک پودا)۔“پھرفرمایا:”ایسی چیز جانتے ہیں جو بہدانہ سے کم قیمت اور اس کے قائم مقام ہو؟“ طبیب نے کہا:”نہیں۔“ آپ نے فرمایا:”میں جانتا ہوں۔“ طبیب نے پوچھا:”وہ کیا ہے؟“ فرمایا:”خُرنُوب شامی(یعنی کیرب کا درخت)۔“ آپ نے پھر پوچھا:”کیا کوئی ایسی چیز جانتے ہیں جومرغی کےاُبلے ہوئے گوشت سے کم پیسوں کی ہولیکن فائدہ اس کے قائم مقام ہو؟“ طبیب نے کہا:”نہیں۔“ آپ نے فرمایا:”میں جانتا ہوں۔ گائے کےدیسی گھی کے ساتھ چنے کا پانی اس کا بدل ہے۔“ طبیب نے کہا:”آپ تو مجھ سے زیادہ طِبّ جانتے ہیں پھر مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟“
تم نے اس تمام گفتگو سے یہ بات جان لی کہ یہ حضرات خواہشات اور پیٹ بھرکر کھانے سے بچتے تھے