کے شیرے میں گاجر ڈبو کر کھاؤں لیکن میں نے اسے نہیں کھلایا۔
نفس کاعجیب دھوکا:
حضرت سیِّدُنا ابوبکر جَلَّاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جس کا نفس اس سے کہتا ہے:”میں تمہارے لئے دس دن بھو کا رہ لوں گا لیکن اس کے بعد تم مجھے میری خواہش کے مطابق کھلاؤ گے۔“وہ نفس سے کہتا ہے:”میں یہ نہیں چاہتا کہ تو 10دن بھوکا رہے بلکہ میری تمنا یہ ہے کہ تو اپنی خواہش ہی چھوڑ دے۔“
خوب تَر کی تلاش:
بیان کیا جاتا ہے کہ ایک عابد نے اپنے ایک دوست کو کھانے پر بلایا اور اسے روٹیاں پیش کر دیں۔ وہ سب سے اچھی روٹی کا اِنْتِخاب کرنے کے لئے روٹیوں کو الٹ پلٹ کر نے لگا۔ عابد نے کہا:”رک جائیے! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟کیا آپ جانتے نہیں کہ جس روٹی کو آپ نے چھو ڑدیا ہے اُس میں یہ یہ حکمتیں ہیں اور اس میں بےشمار کاریگر شریک ہیں حتّٰی کہ یہ پہلے پانی اٹھانے والے بادلوں میں گھومی اور پانی کی شان یہ ہے کہ وہ زمین کو سیراب کرتا ہے پھر ہواؤں، زمین، چوپایوں اور بنی آدم سے ہوتی ہوئی آپ تک پہنچی ہے پھر بھی آپ اس سے ناخوش ہو کر خوب تَر کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔“
ایک روٹی اور 360 کاریگر:
روایت میں ہے کہ روٹی تمہارے سامنے اس وقت تک نہیں رکھی جاتی جب تک اس میں 360کاریگر اثرانداز نہ ہوں۔ان میں سب سے پہلے حضرت سیِّدُنا میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام ہیں جو کہ رحمت کے خزانے سے پانی کو ناپتے ہیں پھر وہ فرشتے جو بادلوں کوچلاتے ہیں پھر سورج، چاند،اَفلاک اور اس کے بعد ہوا کے فرشتے پھر زمینی چوپائے اور سب سے آخر میں روٹی پکانے والا ہے۔(1) ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعْمَتَ اللہِ لَاتُحْصُوۡہَا ؕ(پ۱۳،ابراھیم:۳۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کر سکو گے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فيض القدير،۲/ ۱۱۷،تحت الحديث:۱۴۲۴