کی وجہ سے نہیں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تو ہر رکاوٹ و کمی سے بہت بلند وبالا ہے بلکہ دل اپنے اندر بھری گندگی، کَدُورَت اور لوگوں کی طرف متوجہ رہنے کی وجہ سے عُلُوم کے اَنوار وتَجلِّیات سے محروم رہتا ہے۔ کیونکہ دل برتن کی مثل ہے کہ جب تک یہ پانی سے بھرا ہوگا اس میں ہوا داخل نہیں ہوسکتی ایسے ہی جس کا دل اللہ عَزَّوَجَلَّ سے غافل ہو اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تجلیات کی معرفت کبھی حاصل نہ ہوگی۔ حدیثِ مبارَکہ میں اسی جانب اشارہ ہے کہ”بنی آدم کے دلوں کے گرد اگر شیاطین جمع نہ ہوتے تو انسان کی نظر ضرور آسمانی دنیا تک پہنچ جاتی۔“(1)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مخلوقات میں علم وحکمت انسان کی خصوصیت ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات وصفات اور اس کے افعال کا علم سب سے افضل واعلیٰ ہے۔ اسی کی بدولت انسان کو حقیقی کمال حاصل ہوتا ہے اور اس کمال کے سبب انسان اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قرب کی سعادتوں سے نوازا جاتا ہے۔ پس جسم نفس (یعنی ربانی لطیفہ) کی سواری ہے اور نفس علم کا محل اور ٹھکانا ہے اور علم انسان کا مقصود اور اس کی خصوصیت کا سبب ہے جسے حاصل کرنے کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ جیساکہ گھوڑا بوجھ اٹھانے میں گدھے کی مثل ہے لیکن جنگ کے لئے استعمال ہونے، تیز دوڑنے اور خوبصورتی کی وجہ سے گدھے سے بہتر ہے تو گھوڑے کو انہی خصوصیات کے لئے پیدا گیا ہے اگر اس میں یہ نہ پائی جائیں تو اس میں اور گدھے میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ ایسے ہی انسان میں بعض امور وہ ہیں جو گھوڑے اور گدھے میں بھی پائے جاتے ہیں لیکن مُقَرَّبِیْن ملائکہ کی بعض صفات بھی اس میں پائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے انسان نہ چوپائیوں کی مثل ہے اور نہ فرشتوں کی مثل بلکہ اس کا ایک الگ درجہ ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے۔
فِرِشتہ، اِنسان اور جانور:
انسان غذا کے حُصُول اورنَشْو ونَما کے اعتبار سے نباتات کی مثل، حس و حرکت کے اعتبار سے حیوانات کی طرح اور شکل وصورت کے اعتبار سے دیواروں پر بنی تصویروں کی مثل ہے لیکن اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے اشیاء کی حقیقتوں کی معرفت کے حصول کی قدرت حاصل ہے،لہٰذااگرانسان اپنے تمام اعضاء اور قوتیں علم و عمل کے حصول میں صرف کردے تو اسے فرشتوں سے تشبیہ دی جائے، ان سے ملایا جائے اور ان کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اللباب فی علوم الکتاب،سورة الفاتحه،۱/ ۱۱۱