منہ میں ڈالی ہوئی انجیر نکال دی:
حضرت سیِّدُنا جعفر بن نصررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:سیِّدُالطائفہ حضرت سیِّدُناجنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی نے مجھے حکم دیا کہ میرے لئے وزیری انجیر خرید کر لے آؤ۔ میں خریدکرلے آیا۔ افطار کے دوران انجیر منہ میں رکھی ہی تھی کہ نکال د ی اور رونے لگے۔ پھر فرمایا:”انہیں لے جاؤ۔“ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا کہ ایک غیبی آواز نے مجھے پکار کر کہا:”تمہیں حیا نہیں آتی؟ تم نے اسے میری خاطر 30سال چھوڑے رکھا اب دوبارہ اس کی طرف لوٹ رہے ہو۔“
تحفہ واپس کرنے کی وجہ:
حضر ت سیِّدُنا صالح مری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا عطاء سُلَمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی سے کہا: ”میں آپ کے لئے ایک چیز بھیجوں گا،تحفہ واپس نہ کیجیے گا۔“انہوں نے کہا:”آپ جو کرنا چاہتے ہیں کیجیے۔“ میں نے گھی اور شہد ملا ستّو کا مشروب اپنے بیٹے کے ہاتھ آپ کے پاس بھیجا اور کہا:”ان کے پاس سے اس وقت تک نہ ہٹنا جب تک وہ اسے پی نہ لیں۔“(چنانچہ، انہوں نے پی لیا) دوسرے روز میں نے پھر اسی طرح بناکر بھیجا تو آپ نےبغیر پیئے واپس کر دیا۔ میں نےان پر ناگواری کا اظہار کیا اور انہیں ملامت کرتے ہوئے کہا:”سبحان اللہ! میرا تحفہ آپ نے مجھے واپس کردیا۔“ جب انہوں میرا غصہ دیکھا تو کہا:آپ برا نہ مانیں! میں نے پہلی مرتبہ تو پی لیا تھا، دوسری مرتبہ خودکو اس کے پینے پرآمادہ کرنے کی کو شش کی لیکن اس پر قادر نہ ہو سکا،میں جب بھی اسے پینے کا ارادہ کرتا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان یاد آجاتا:
یَّتَجَرَّعُہٗ وَ لَا یَکَادُ یُسِیۡغُہٗ (پ۱۳،ابراھیم:۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:بمشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا اور گلے سے نیچے اتارنے کی امید نہ ہوگی۔
حضر ت سیِّدُنا صالح مری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں:میں رو پڑا اور اپنے دل میں کہا میں کسی اور وادی میں ہوں جبکہ آپ کسی اور وادی کے باسی ہیں۔
حضرت سیِّدُنا سَری سَقَطِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: میرا نفس 30سال سے مطا لبہ کر رہا ہے کہ کھجور