Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
288 - 1245
	اور اس کے بعد آپ نے کبھی گو شت نہ چکھا۔
خوفناک آندھی:
	حضرت سیِّدُنا عُتْبَۃُ الْغُلَامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو کئی سال تک کھجور کی خواہش رہی۔ایک دن آپ نے ایک قیراط(یعنی درہم کے بارہویں حصے) کی کھجوریں خریدکر افطاری کے لئے رکھ لیں، اتنے میں خوفناک آندھی چلی حتّٰی کہ چاروں طرف  تاریکی چھاگئی اور لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔ آپ نے اپنے نفس کو مخاطب کرکے فرمایا:”یہ تیری جرأت اور کھجور خریدنے کے سبب ہوا اور تیرے گناہ کی وجہ سےلوگ اس آندھی میں مبتلا ہوئے  ہیں، اب مجھ پر لازم ہے کہ تو اسے نہ چکھے۔“
روکھی روٹی پر گزربسر:
	ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا داؤد طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آدھے پیسے کی سبزی اور ایک پیسے کا سرکہ خریدا اور رات بھر اپنے نفس کو مخاطب کرکے فرماتے رہے:”اے داؤد!تیری خرابی ہو!بروز قیامت تیرا حساب کس قدر طویل ہو گا۔“ اس کے بعدآپ  صرف روکھی روٹی ہی تناوُل فرمایا کرتے۔
کھجور چھو ڑنے کا سچا عزم:
	حضرت سیِّدُناعُتْـبَۃُ الْغُلَامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک دن حضر ت سیِّدُنا عبدالواحد بن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے فرمایا:”فلاں شخص اپنے بارے میں وہ مقام و مرتبہ بیان کرتا ہے جسے میں نہیں جانتا۔“انہوں نے کہا:”آپ روٹی کے ساتھ کھجور کھاتے ہیں جبکہ وہ صرف روٹی کھاتا ہے۔“حضرت سیِّدُنا عُتْبَۃُ الْغُلَامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”اگر میں کھجور کھانا چھوڑ دوں تو اس مرتبے کو پہچان لوں گا ؟“ انہوں نے کہا:”جی ہاں! اور اس کے علاوہ مراتب کو بھی۔“ یہ سن کرحضرت سیِّدُناعُتْبَۃُ الْغُلَامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ رونے لگے۔ کسی شاگرد نے عرض کی:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کی آنکھ سے آنسو مٹائے کیا کھجور (چھوٹنے)پر رو رہے ہیں؟“ حضر ت سیِّدُنا عبدالواحد بن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا:”انہیں چھوڑ دو! کھجور چھو ڑنے کے سچے عزم کو ان کا نفس پہچان گیا ہے اور جب یہ کسی چیز کو چھوڑ دیتے ہیں تو دوبارہ کبھی اس کی طرف نہیں لوٹتے۔“