خواہش کرنے لگا ہے! سن لے! میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تو اسے کبھی نہیں کھا سکے گا۔“میں سلام کرکے اندر داخل ہوا تو آپ تنہا ہی تھے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! تو پھل نہیں چکھ سکے گا:
ایک دن حضرت سیِّدُنا ابوحازمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبازار سے گزرے توپھل دیکھ کر اسے کھانے کی خواہش ہو ئی اور اپنے بیٹے سے فرمایا:”یہ ختم ہوجانے والا پھل جسے خریدے بغیر لینا ممنوع ہے، اسے ہمارے لئے خرید لاؤ شاید ہمیں وہ میوہ کھانا بھی نصیب ہوجائے جو نہ ختم ہوگا اور نہ ہی اس سے روکا جائے گا۔“ جب آپ کے بیٹے نے پھل خرید کر آپ کی بارگاہ میں پیش کیا تو اپنے نفس سے مخاطب ہوکرفرمانے لگے:”تو نے مجھے دھوکا دیا کہ میں دیکھتے ہی خواہش کرنے لگا اورتو مجھ پر اس قدر غالب آگیا کہ میں نے اسے خرید لیا، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! تو اسے نہیں چکھ سکے گا۔“ پس آپ نے وہ پھل یتیموں کی طرف بھیج دیا۔
حضرت سیِّدُناموسیٰ اشجرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”20سال سے میرا نفس پسے ہوئے نمک کی خواہش کر رہا ہے (لیکن میں نےاسے نہیں کھلایا)۔“
حضرت سیِّدُنا احمد بن خلیفہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:”20سال سے میرا نفس صرف پانی سے سیر ہونے کی خواہش کررہا ہے مگر میں نے اسے نہیں پلایا۔“
کبھی گوشت نہ چکھا:
بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت سیِّدُنا عُتْبَۃُ الْغُلَامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوسات سال تک گوشت کی خواہش رہی۔ ایک روز ارشاد فرمایا: مجھے اپنے نفس سے حیا آئی کہ میں 7سال سے مسلسل اسے گوشت کھا نے سے روک رہا ہوں، چنانچہ میں نے روٹی اور گوشت کا ٹکڑا خریدا اور اسے بھون کر روٹی پر رکھاہی تھا کہ ایک بچہ آگیا، میں نے پوچھا:”تم فلاں کے بیٹے ہو نا اور تمہارے والد بھی فوت ہوچکے ہیں؟“ اس نے کہا:”ہاں۔“ میں نے روٹی اور گوشت کا ٹکڑا اسے دے دیا۔“ لوگ کہتے ہیں پھرآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ رونے لگے اور یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:
وَ یُطْعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیۡنًا وَّ یَتِیۡمًا وَّ اَسِیۡرًا ﴿۸﴾(پ۲۹،الدهر:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اَسیر(قیدی)کو۔