بن ادہم کو کھلاؤ کہ سکباج سےطویل عرصہ تک رُکے ر ہنے کے سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس پر رحم فرمایا ہے“ اے ابراہیم! جان لو! میں نے فرشتوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ جسے عطا کیا جائے اور وہ نہ لے تو پھر طلب کرنے پر بھی اُسے نہ دیا جائے گا۔ میں نے کہا: اگر ایسا معاملہ ہے تو لیجیے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کے سبب آپ کے سامنے ہوں پھر میں نے دوسری طرف توجہ کی تو ایک دوسرے نوجوان کو دیکھا اُس نے حضرت سیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام کو کو ئی چیز دیتے ہو ئے کہا:”اے خضر ! آپ ہی انہیں کھلائیے“ چنانچہ آپ مجھے لقمے دیتے رہے یہاں تک کہ میری آنکھ کھل گئی۔ میں اٹھا تو منہ میں اس کا ذائقہ موجود تھا۔
حضرت سیِّدُنا شقیق بن ابراہیم بلخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اپنا ہاتھ دکھائیے! پس میں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر چوم لیا اور عرض کی: اے وہ ذات! جومن پسند چیزوں کی خواہش رکھنے والوں کو کھلاتی ہے جب کہ وہ حقیقی معنوں میں خواہشات سے بچتے ہیں،اے وہ ذات ! جو دل میں یقین ڈالتی ہے، اے وہ ذا ت! جس سے محبت کرنے کے سبب لوگوں کے قُلُوب شِفا وسکون پاتے ہیں! کیا تیرے بندے شقیق کا بھی تیری بارگاہ میں کوئی مقام ومرتبہ ہے؟ پھرمیں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کا ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیا اور عرض کی: اس ہاتھ اور اس ہاتھ والے کی جو قدر ومنزلت تیرے نزدیک ہے اور جو جُود وکرم تیری طرف سے انہیں عطا ہوا ہے وہ اپنے فضل و احسان اوررحمت کے محتاج بندے کو بھی عطا فرما اگر چہ وہ اس کا مستحق نہیں۔پھر حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کھڑے ہوئے اور چلنے لگے حتی کہ ہم بیت اللہ شریف پہنچ گئے۔
40سال تک دودھ نوش نہ فرمایا:
حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار کے بارے میں مروی ہے کہ آپ کو 40سال تک دودھ کی خواہش رہی مگر آپ نے نوش نہ فرمایا۔ ایک دن نذرانہ میں کسی نے پکی ہوئی تاز ہ کھجوریں پیش کیں تو آپ نے شاگردوں کو عنایت کرتے ہوئے فرمایا: آپ لوگ کھالیجئے میں نے 40سال سےتازہ کھجوریں نہیں چکھیں۔
مرتے دم تک نمک کھاتے نہیں دیکھا:
حضرت سیِّدُنا احمد بن ابوالحواری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ