دھوپ کا سوکھا ہوا آٹا اور گرم پانی:
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عُتْبَۃُ الْغُلامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ آٹا گوندھ کر اسے دھوپ میں سکھاکر پھر کھاتے تھے اور فرماتے تھے: ”ایک ٹکڑے اور نمک پر گزارہ کرنا چاہئے تاکہ آخرت میں بھنا ہوا گوشت اور پاکیزہ کھانا ملے۔“ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پیالہ لیتے اور پورا دن دھوپ میں رکھے ہوئے مٹکے سے پانی پیتے تھے۔ آپ کی لونڈی عرض کرتی: ”آقا! اگر آپ اپنا آٹا مجھے عطا کر دیتے تو میں اس سے آپ کے لئے روٹی بناتی اور آپ کے لئے پانی ٹھنڈا کر دیتی۔“ آپ فرماتے: ”اے اُمِّ فُلاں! میں اپنے آپ سے بھوک کی شدت کو ختم کر چکا ہوں۔“
سبز پیالہ:
حضرت سیِّدُنا شقیق بن ابراہیم بلخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں: مکہ مکرّمہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا میں حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جائے ولادت کے پاس سُوقُ اللَّیْل کے مقام پرحضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے میری ملاقات ہوئی، آپ راستے کے کنارے بیٹھے رو رہے تھے۔ میں آپ کے پاس آکر بیٹھ گیا اور عرض کی: ”اے ابواسحاق! آپ کیوں رو رہے ہیں؟“ ارشاد فرمایا:”خیر ہے۔“ میں نے (اصرار کرتے ہوئے)اپنی بات کو تین مرتبہ دہرایاتو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے شقیق! میرا پردہ رکھنا۔“ میں نے عرض کی: ”اے میرے بھائی! جو جی چاہے فرمادیجئے۔“ ارشاد فرمایا: ”میرا نفس 30سال سے سِکْباج(یعنی گوشت اورسرکہ سے تیار کردہ کھانا)کھانے کی خواہش کرتا رہا مگر میں کوشش کرکے نفس کو اس سے روکتا رہا حتّٰی کہ گزشتہ رات جب کہ میں بیٹھا ہواتھا تو مجھ پر اونگھ غالب آگئی، ایک نوجوان کو ہاتھ میں سبز پیالہ لئے دیکھا جس سے سکباج کی خوشبو دار بھاپ اٹھ رہی تھی، میں ہمت جمع کرکے اس سے دور ہٹا تو اس نوجوان نے وہ پیالہ میری طرف بڑھا کر کہا: اے ابراہیم! کھائیے۔ میں نے جواب دیا: میں نہیں کھاؤں گا، میں اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے چھوڑ چکا ہو ں۔اس نے کہا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی نے آپ کو اس سے نوازا ہے کھائیے! میرے پاس کوئی جواب نہیں بچا میں رو دیا۔ اس نوجوان نے کہا: کھائیے!اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے۔ میں نے کہا: ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ جب تک اس بات کا علم نہ ہو کہ کہاں سے آیا ہے اسے اپنے پیٹوں میں نہ ڈالیں۔ نوجوان کہنے لگا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو عا فیت بخشے آپ کھائیے!مجھے یہ کھانا دے کر کہا گیا”اے خضر! اسے لے جاؤ اور ابراہیم