کھانے پینے سے مقصود کیا ہے؟
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے رسول،رسولِ مقبولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”اِذَاسَدَدْتَّ کَلَبَ الْجُوْعِ بِرَغِیْفٍ وَکُوْزٍ مِّنَ الْمَاءِ الْقَرَاحِ فَعَلَی الدُّنْیَا وَاَھْلِھَا الدَّمَار یعنی جب تم ایک روٹی اور پانی کے ایک پیالےسے بھوک کی شدت کو ختم کردو(تو کہہ دو)دنیا اور دنیا والوں کے لئے ہلاکت ہے۔“(1)
حضورِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس حدیْثِ پاک میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کھانے پینے سے مقصود بھوک، پیاس کی تکلیف اور ان کے ضررکودور کرنا ہے نہ کہ دنیا کی لذات سے عیش کرنا۔
کھانے کے بعد پھر کھانا...؟
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جب یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت سیِّدُنا یزید بن ابوسفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا انواع واقسام کے کھانے کھاتے ہیں تو امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے غلام سے ارشاد فرمایا: ”جب تم دیکھو کہ ان کا رات کا کھانا آچکا ہے تو مجھے بتا دینا۔“ چنانچہ اس نے آپ کو اطلاع کر دی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت یزید بن ابو سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس تشریف لے گئے، ان کے سامنے ثرید اور گوشت لایا گیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کے ساتھ کھانا کھالیا، پھر بھنا ہوا گوشت پیش کیا گیا تو حضرت سیِّدُنا یزید بن ابو سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے اپنا ہاتھ پھر بڑھایا، امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کا ہاتھ روک دیا اور ارشاد فرمایا: ”اے یزید بن ابو سفیان! اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو! کیا کھانے کے بعدپھر کھانا؟ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں عمر کی جان ہے! اگرتم اسلاف کے طریقے سے پھر جاؤ گے تو ان کے راستے سے ہٹنے کے سبب ضرور تمہاری مخالفت کی جائے گی۔“
حضرت سیِّدُنا یسار بن عُمَیْررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: میں نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لئے جب بھی آٹا چھانا تو ان کی مرضی کے خلاف ایسا کیا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الايمان،باب فی الزهدو قصرالامل،۷/ ۲۹۵،حديث:۱۰۳۶۶