پہلے نے کہا:”مجھے تیل بہانے کا حکم دیا گیا ہےجس کی فلاں عابد نے خواہش کی تھی۔“
اس روایت میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ خواہشات کے اسباب آسان ہوجانا خیرو بھلائی کی علامات میں سے نہیں۔ یہی و جہ ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ شہد ملے ٹھنڈے پانی کا گھونٹ پینے سے رُک گئے اورارشاد فرما یا: ”اس کا حساب مجھ سے دور کرو۔“معلوم ہوا کہ لذات کو چھوڑنے اور خواہشات کےمعاملےمیں نفس کی مخالَفت کرنے سے بڑھ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی کوئی عبادت نہیں جیسا کہ ہم نے اسے ”رِیَاضَۃُ النَّفْس کے بیان“میں ذکر کیاہے۔
مدینے کی مچھلی:
حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابْنِ عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیمار تھے، آپ کو تازہ مچھلی کھانے کی خواہش ہوئی، چنانچہ مدینے میں آپ کے لئےمچھلی تلاش کی گئی لیکن نہ مل سکی (سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں) کئی دنوں کے بعد مجھے مل گئی تو میں نے اسے ڈیڑھ درہم میں خریدلیا، پھر اسے بھونا اورایک روٹی پر رکھ کرخدمت سراپا اقدس میں پیش کردیا۔اتنے میں دروازے پر ایک سائل آگیا، آپ نے مجھ سے فرمایا: ”مچھلی روٹی سمیت سائل کو دے دو۔“ میں نے عرض کی:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو تَندُرُستی عطا فرمائے! کئی دنوں سے آپ کو اس کی خواہش تھی لیکن نہ مل سکی،اب چو نکہ میں نے اسے ڈیڑھ درہم میں خرید ہی لیاہے تو ہم سائل کو مچھلی کی قیمت دے دیتے ہیں۔“ ارشاد فرمایا: ”مچھلی روٹی سمیت سائل کو دے دو۔“پھر میں نے سائل سے کہا: ”کیا تم ایک درہم لے کر اس مچھلی کو چھوڑ سکتے ہو؟“ اُس نے کہا: ”ہاں۔“میں نے اسے ایک درہم دیا اور مچھلی لے کرآپ کے سامنے حاضر کردی اور عرض کی: ”میں نے اسے ایک درہم دے کراُس سے مچھلی خریدلی ہے۔“سیِّدُنا ابْنِ عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ارشاد فرمایا:مچھلی روٹی سمیت سائل کو دے دو اور اُس سے درہم بھی واپس نہ لینا کیو نکہ میں نے سرکارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنا ہے:”اَیُّمَا اِمْرَءٍ اشْتَھٰی شَھْوَةً فَرَدَّ شَھْوَتَہٗ وَاٰ ثَرَ بِھَا عَلٰی نَفْسِہٖ غَفَرَ اللّٰهُ لَہ یعنی جو شخص کسی چیز کی خواہش رکھتا ہو پھر وہ اس خواہش کو روک کر اپنے اوپر(کسی دوسرےکو )ترجیح دےتو اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے بخش دیتا ہے۔“(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاريخ مدينة دمشق،الرقم:۳۴۲۱،عبدالله بن عمربن الخطاب،۳۱/ ۱۴۲