Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
281 - 1245
 یعنی میری امت کے شریر لوگ وہ ہیں جو گندم کا آٹا کھاتے ہیں۔“(1)یہ حدیْثِ پاک گندم کا آٹا کھانےکو حرام نہیں کررہی بلکہ گندم کا آٹا کھانااس معنی پر مباح ہے کہ جس نے ایک یا دو مرتبہ گندم کا آٹا کھایا تو وہ گناہ گار نہ ہوا بلکہ جس نے اس کے کھانے پر ہمیشگی اختیار کرلی وہ بھی اسے کھانے کے سبب گناہ گار نہیں ہو گا لیکن و ہ چو نکہ نعمتوں اور چین وسکون میں پرورش پارہا ہے تو اس کا دل دنیا میں لگ جائے گا، لذات کو پسند کرنے لگے گا اور ان کی طلب میں خوب کوشش کرے گا تویہ چیز اسے گنا ہوں کی طرف لے جائےگی، لہٰذا اس معنی کے اعتبا ر سے یہ امت کے شریر لوگ ہیں۔ کیونکہ گندم کاآٹاایسے امور کے ارتکاب کی طرف لے جائے گا جو گناہ ہیں۔

	اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب،دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:میری امت کے شریر لوگ وہ ہیں جو نعمت میں پلتے ہیں اور اسی پر ان کے اجسام نَشْوونَما پا تے ہیں۔ان کی خواہش محض انواع واقسام کے کھانے اورمختلف قسم کے لباس ہوتے ہیں اور وہ زیادہ بولنے والے منہ پھٹ ہوتے ہیں۔(2)
قبر کی یادکثرت خواہشات سے روک دیتی ہے:
	اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی: تم اپنی قبر کو یاد رکھو! یہ تمہیں کثیر خواہشات سے روک دے گی۔
	سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن لذیذ کھانے تناول کرنے اور نفس کو ان کا عادی بنانے سے بہت خوف کرتے تھے اور اسے شَقاوت و بدبختی کی علا مت تصور کرتے اور گمان کرتے کہ اس کے سبب وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی جانب سے ملنے والی عظیم سعادت سے محروم رہیں گے۔
دو فرشتوں کی ملاقات:
	حضرت سیِّدُنا وَہْب بن مُنَبِّہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ چوتھے آسمان پر دو فرشتوں کی ملاقات ہوئی، ایک نے دوسرے سے کہا:”کہاں سے آرہے ہو؟“ دوسرے نے جواب دیا: ”مجھے سمندر سے مچھلی لے کر فلاں یہودی کودینے کا حکم دیا گیا ہے کہ اسے اس کی خوا ہش تھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس پر لعنت فرمائے۔“
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تذکرة الموضوعات،باب فضل الحلاوة واطعام ھا...الخ ،ص۱۵۱.علمانے لکھا ہے کہ اس کی کوئی سندنہیں ہے۔
2…شعب الايمان،باب فی المطاعم  والمشارب ...الخ،۵/ ۳۳،حديث:۵۶۶۹بتغير