چوتھا وظیفہ: اعلیٰ غذا نہ کھانے کاارادہ کرے
مرید کے لئے ریاضت کا ایک وظیفہ یہ ہے کہ کھانے میں اعلیٰ غذا نہ کھائے۔ اعلیٰ درجے کا کھانا گندم کا باریک پسا ہوا آٹا ہے اگر چھانا ہو اہو تو یہ اور بھی عمدہ کھانا ہے، اوسط اور درمیانے درجے کا کھانا چھنے ہو ئے جَو ہیں اور ادنٰی درجے کا کھانا بغیر چھانے ہوئے جَو ہیں۔اعلیٰ درجے کا سالن گوشت اور (گھی اور شہد سے مرکب)حلوہ ہے اور ادنٰی درجے کا سالن نمک اور سِرکہ ہےجبکہ اوسط اور درمیانے درجے کا سالن بغیر گوشت کا شورباہے۔
جنت کا ولیمہ:
راہِ آخرت کے مسافر بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکا معمول تھا کہ وہ ہمیشہ سالن کھانے بلکہ تمام خواہشات سے بچتے تھے کیونکہ انسان کوکسی لذیذ چیز کی خواہش ہو اور وہ پوری ہوجائے تو اس کے اندر تکبر پیدا ہوتا، دل سخت ہوجاتا اور دنیا کی لذتوں سے اُنسیت ہوجاتی ہے حتّٰی کہ وہ ان لذتوں سے اس قدر مانوس ہوجاتا ہے کہ موت اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کو نا پسند کرنے لگتا ہے، دنیا اس کے حق میں جنت اور موت قید خانہ بن جاتی ہے۔ جب انسان خود کوخواہشات سے روکتا اور اپنے نفس پر سختی کرتے ہوئے اسے لذاتِ دنیا سے محروم رکھتا ہے تو دنیا اس کے لئے قید خانہ اور تنگ جگہ بن جاتی ہے، اب اس قیدخانے سے رہائی کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور موت اس قید خانہ سے آزادی کا پروانہ بن جاتی ہے۔حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن معاذ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اس فرمان میں اسی طرف اشارہ ہے:”اے صدیقین کے گروہ! جنت الفردوس کے ولیمہ کیلئے اپنے آپ کو بھوکا رکھو کیونکہ خود کو جس قدر بھوکا رکھا جائے اسی قدر کھانے کی خواہش بڑھتی ہے۔‘‘
شکم سیری کی جتنی آفات ہم نے ذکر کی ہیں وہ تمام آفات دیگر خواہشات اورلذات کو اختیار کرنے میں بھی جاری ہوں گی لہٰذا ہم ان کو دوبارہ ذکر کرکے کلام کو طویل نہیں کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ جائز خواہشات چھوڑ دینے میں بڑا ثواب ملتا ہے اور ان کو حاصل کرنے میں بڑا خطرہ رہتاہے۔چنانچہ
اُمَّت کے شریرلوگ:
سرکارمدینہ،سرورِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”شِرَارُ اُمَّتِی الَّذِیْنَ یَأْکُلُوْنَ مُخَّ الْحِنْطَة