ہے۔ جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
مَا یَفْتَحِ اللہُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحْمَۃٍ فَلَا مُمْسِکَ لَہَا ۚ (پ۲۲،فاطر:۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہجو رحمت لوگوں کے لئے کھولے اس کا کوئی روکنے والا نہیں۔
یہ رحمت چونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جود وکرم کا فیضان ہے، لہٰذا کسی کے لئے اس کی ممانعت نہیں لیکن اس کا ظہور انہی دلوں پر ہوتا ہے جو اس کی رحمت اور جود وکرم کے طلبگار ہوں۔ جیساکہ سرکارِمدینہ،راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عالیشان ہے:”اِنَّ لِرَبِّکُمْ فِی اَیَّامِ دَ ھْرِکُمْ لَــنَفْحَاتٌ اَلَا فَتَعَرَّضُوْا لَھَـا یعنی اے لوگو!بلاشبہ تمہاری زندگی میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کےانوار وتجلیات ہیں،لہٰذا ان کےطلب گار رہو۔“(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے انوار وتجلیات طلب کرنے سے مراد یہ ہے کہ انسان بُرے اَخلاق کی وجہ سے دل پر جم جانے والی کَدُوْرَت اور گندگی کو دور کرے اور اسے خوب پاک کرے۔اس کا بیان عنقریب آئے گا۔
رحمت الٰہی کے متعلق تین فرامین مصطفٰے:
﴿1﴾…یَنْزِلُ اللّٰہُ کُلَّ لَیْلَةٍ اِلٰی سَمَاءِ الدُّنْیَا فَیَقُوْل: ھَلْ مِنْ دَاعٍ فَاسْتَجِیْبَ لَہ؟ یعنی ہر رات آسمان دنیا پررحمتِ الٰہی کا نُزول ہوتا ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ اعلان فرماتا ہے: ہے کوئی دعا کرنے والا جس کی دعا میں قبول کروں؟(2)
﴿2﴾…اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:لَقَدْ طَالَ شَوْقُ الْاَبْرَارِ اِلٰی لِقَآئِیْ وَاَنَااِلٰی لِقَآئِھِمْ اَشَدُّ شَوْقًا یعنی مجھ سے ملاقات کا شوق نیک لوگوں پر طویل ہوگیا حالانکہ مجھے ان سے ملاقات کرنا زیادہ پسند ہے۔(3)
﴿3﴾…اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:مَنْ تَقَرَّبَ اِلَیَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ اِلَیْہِ ذِرَاعًا یعنی جو ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے میری رحمت ایک ہاتھ اس کے قریب ہوجاتی ہے۔(4)
ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ عُلُوم سے دل کا محروم ہونا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے کسی رکاوٹ یا کمی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبير،۱۹/ ۲۳۳، حديث:۵۱۹
2… المسندللامام احمدبن حنبل،مسندالشاميين،۶/ ۲۶۹، حديث:۱۷۹۲۴،بتغیر
3…فردوس الاخبار،۲/ ۴۶۲، حديث:۸۱۲۶
4… بخاری،کتاب التوحيد،باب قول الله تعالی ويحذرکم الله نفسه،۴/ ۵۴۱، حديث:۷۴۰۵