Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
279 - 1245
 تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم افطار کوسحری تک مؤخرکرتے۔(1)
	اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں:حضورنبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم روزے کو سحری تک لے جاتے تھے۔(2)
روزہ دار کھانے کو دو حصوں میں تقسیم کردے:
	اگر مغرب کے بعد روزہ دار کا دل کھانے کی طرف مائل ہوتا ہواور تہجد میں حضورِ قلب حاصل نہ ہو تا ہو تو اَولیٰ اور بہتر یہ ہے کہ وہ کھانے کو دو حصوں میں تقسیم کردے۔مثال کے طور پر اگر وہ دو روٹی کھا تا ہے تو ایک افطار کے وقت اور ایک سحری کے وقت کھالے تا کہ اس کے د ل کو تسکین حاصل ہو اور تہجد کے وقت اس کابدن ہلکا پھلکا رہے اور سحری کھانے کے سبب اسے شدید بھوک نہ لگے۔اس طرح وہ ایک روٹی سےتہجد پر اور دوسری سے روزے پر مدد حاصل کرلے گا۔ جو شخص ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھتا ہے اس کے لئے اس میں کوئی حرج نہیں کہ جس دن وہ روزہ نہ رکھے اُس دن ظہر کے وقت اور جس دن روزہ رکھے اُس دن سحری کے وقت کھائے۔
	یہ طریقے کھانے کے اوقات مقرر کرنے اور کھانا جلدی اور دیر سے کھانے کے متعلق تھے۔
﴿٭…چوتھا درجہ: اگر دن  رات میں ایک مرتبہ کھانے پر اکتفا نہیں کر سکتا اور اپنے جسم کو عبادت کے لئے توانا رکھنا چاہتا ہےاورجانتا ہے کہ دن رات میں دو روٹی سے زیادہ نہیں کھائے گا تو اب اس کے لئے بہتر یہ ہے کہ روٹیاں کھانے میں بقدرِ حاجت کچھ وقفہ کرے  بشرطیکہ نفس بطورِ عادت وشہوت غذا کا مشتاق نہ ہو۔ روٹی (تقریباً) 36لقموں کی ہوتی ہے،ہر ایک گھنٹے میں نفس کی قوت کے لئے تین لقمے ہونے چاہئیں، اگر اس طریقے پر روٹی کھانا چاہے  تو ہر تین لقموں کے بعد پانی کا ایک گھونٹ لے اس طرح 36لقموں میں پانی کے 12گھونٹ ہو جائیں گے۔ روزانہ اس ترتیب پر کھانے میں بدنی صحت وتندرستی ہے اور یہ حد عبادت گزاروں کے لئے کافی ہے۔(3)﴾
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم،کتاب صفة القيامة والجنة...الخ،ص۱۵۱۵،حديث:۲۸۱۹ باختصار
2…المسندللامام احمد بن حنبل،ومن مسندعلی بن ابی طالب،۱/ ۱۹۶،حديث:۷۰۰
3…یہ درجہ اصل متن میں مذکور نہیں اسے اتحاف سے نقل کیا گیا ہے۔(اتحاف السادة المتقین، ۹/۵۵)