سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن دن میں ایک مرتبہ کھانا تناوُل فرماتے۔
دن میں ایک مرتبہ کھانا مُعْتَدِل طریقہ ہے :
مدینے کے تاجدار،دوعالم کے مالک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےاُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ارشاد فرمایا: اِسراف سے بچو! دن میں دو مرتبہ کھانا بےشک اسراف میں سے ہے اور ہر دو دن میں ایک مرتبہ کھانا اپنے اوپرتنگی کرناہے اور ہر دن میں ایک مرتبہ کھانا اسراف اورتنگی کرنے کے مابین اعتدال ہے اور کتابُ اللہ میں اسی کی تعریف کی گئی ہے(1)۔(2)
کھانے کے لئے دن میں کون سا وقت مقرر کرے؟
جو شخص دن میں ایک مرتبہ کھانے پر اکتفا کرے اس کیلئے مستحب یہ ہے کہ طلوع فجر سے پہلے سحرکے وقت میں کھائے، یوں اس کا کھانا تہجد کے بعد اور صبح سے پہلے ہوجائے گا اور اسے پانچ سعادتیں حاصل ہوں گی: (۱)…روزے کے سبب دن میں بھوکا رہنے کی سعادت نصیب ہو گی(۲)…رات کی بھوک سے قیام و عبادت میں آسانی ہو گی(۳)…معدہ خالی ہو نے کی وجہ سے دل خالی ہوگا(۴)…فکر و سوچ صاف ستھری ہوگی اور دل جمعی نصیب ہو گی اور (۵)…نفس راحت وسکون محسوس کرے گا اور وقت سے پہلے کھانے کا مطالبہ نہیں کرے گا۔
پاؤں میں وَرم ہوجاتا:
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشادفرماتے ہیں:سیِّدُالْمُرسَلِین،رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تمہاری طرح کبھی قیام نہیں فرمایا بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ کے دونوں مبارک پاؤں میں ورم ہوجاتا اور تمہاری طرح صومِ وِصال(3) نہیں رکھتے تھے بلکہ آپ صَلَّی اللہُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حدیث پاک میں اس آیت مبارکہ کی جانب اشارہ ہے: اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمْ یُسْرِفُوۡا وَلَمْ یَقْتُرُوۡا وَکَانَ بَیۡنَ ذٰلِکَ قَوَامًا ﴿۶۷﴾
ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں۔(پ۱۹،الفرقان:۶۷)
2…شعب الايمان،باب فی المطاعم والمشارب ...الخ،۵/ ۲۶،حديث:۵۶۴۰ باختصار
3…صوم وصال یہ ہے کہ ”روزہ رکھ کر افطار نہ کرے اور دوسرے دن پھر روزہ رکھے“ یہ مکروہِ تنزیہی ہے۔(بہارشریعت،۱/۹۶۶، ۹۶۷، حصہ۵)