Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
277 - 1245
نےاس کی حالت کے متعلق اس سے بات چیت کی (یعنی نیکی کی دعوت دی)اور اس معاملے میں اس سے کافی بحث و مُباحَثَہ کیا حتّٰی کہ راہب نے کہا:”حضرت سیِّدُنا عیسٰی رُوْحُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام کا معجزہ تھا کہ 40دن تک کچھ نہ کھاتے تھے اور یہ کما ل صرف نبی یا صدیق کو ہی حاصل ہوتا ہے۔“ ان صوفی بزرگ نے فرمایا:”اگر میں 50دن تک کچھ نہ کھاؤں تو کیا تم مسلمان ہوجاؤ گے اور اس بات کو مان لو گے کہ اسلام ہی حق ہے اور تم باطل کے پیرو کار ہو؟“راہب نے کہا:”ہاں!“چنا نچہ وہ صوفی بزرگ اس کے یہاں ٹھہر گئے اور اس جگہ پر رہتے جہاں وہ آپ کو دیکھتا رہتا حتّٰی کہ50 دن تک کچھ نہ کھایا۔ پھرکہنے لگے: ”میں تمہاری خاطر اس میں مزید اضافہ کروں گا۔“ چنانچہ آپ نے (مزید10دن بڑھا کر)60دن تک فاقہ کر لیا تو راہب حیرت کا اظہار کرتے ہوئے  کہنے لگا:”میرا تو یہ گمان تھاکہ(قصداًبھوکا رہنے کے معاملے میں) کوئی حضرت سیِّدُنا عیسٰیرُوْحُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔“یہی بات اس کے اسلام لانے کا سبَب بن گئی۔
	یہ بہت بڑا درجہ ہے، اس تک صرف وہی لوگ پہنچتے ہیں جوان چیزوں کے مشاہدے میں مشغول ہوتے ہیں جو انہیں عادت و طبیعت سے نکال کر مشاہدات کی لذت میں مکمل طور پرمشغول  رکھتی ہیں حتّٰی کہ انہیں بھوک اور حاجت تک بھلا دیتی ہیں۔
٭…دوسرا درجہ: کھانا مُؤَخَّر کرنے کا ایک درجہ یہ ہے کہ انسان دو سے تین دن تک کچھ نہ کھائے اور یہ بات کوئی مشکل بھی نہیں بلکہ کوشش اور مجاہَدہ کے ذریعے اس تک پہنچنا آسان وممکن ہے۔
٭…تیسرا درجہ: یہ سب سے  ادنٰی درجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ دن رات میں ایک مرتبہ کھانے پر اِکتفا کرے۔ کم سے کم درجہ یہی ہے جو اس سے تَجاوُز کر ے(یعنی ایک مرتبہ سے زیادہ کھائے) توصوفیاء کے نزدیک یہ اسراف اور شکم سیری پر ہمیشگی ہے حتّٰی کہ حالتِ بھوک اسے نصیب نہیں ہوتی اوریہ عیاش لوگوں کاکام اور سنّت سے دوری ہے۔
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم دن رات میں ایک بار کھانا تناوُل فرماتے:
	حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضورنبیّ اکرم،نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب دن کوکھانا تناول فرمالیتے تو رات میں نہ کھاتے اور اگر رات کو تناول فرما لیتے تو دن میں نہ کھاتے۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاريخ مدينه دمشق،الرقم:۴۶۱۰،عثمان بن عبدالله،۳۸/ ۴۲۳