کے زندہ رہنے کے لئے کافی ہو۔
تیسرا وظیفہ:کھانا مؤخر کرنے کا وقت اورمقدار مقرر کرے
اس میں بھی چار درجات ہیں:
٭…پہلا درجہ: یہ ہے کہ انسان تین دن یا اس سے زیادہ دن تک نہ کھائے۔ بعض مریدین تو ریاضت میں اس حد تک بڑھ گئے کہ وہ تعداد مقرر کئے بغیر ہی بھو کے رہتے تھے حتّٰی کہ 30 سے 40دن تک بھوکے رہتے۔ اس حد تک علما کی کثیر تعداد پہنچی ہے اور ان میں حضرت سیِّدُنا محمد بن عَمْروقَرَنی،حضرت سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن ابراہیم دُحَیْم، حضرت سیِّدُنا ابراہیم تَیْمِی، حضرت سیِّدُنا حجاج بن فُرَافِصَہ، حضرت سیِّدُنا حَفْص عابد مصیصی، حضرت سیِّدُنا مسلم بن سعید،حضرت سیِّدُنا زہیر بن نعیم البابی،حضرت سیِّدُنا سلیمان خواص، حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللہ تُستَری اورحضرت سیِّدُنا ابراہیم بن احمد خواص رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی شامل ہیں۔
کئی کئی روز کا فاقہ:
امیرالمؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ چھ دن تک کچھ تناول نہ فرماتے، حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سات دن تک نہ کھاتے، حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے شاگردِ رشید ابُوالْجَوزاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سات دن تک بھوکے رہتے اور بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم اور حضرت سیِّدُناسفیان ثوریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا تین تین دن تک فاقہ کَشی کر تے۔یہ تمام حضرات بھوک کے ذریعےآخرت کے راستے پر چلنے میں مدد حاصل کرتے تھے۔
بعض علما رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی فرماتے ہیں: جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطر40دن تک بھوکا رہے اُس پر بعض اسرارِ الٰہیہ کھول دئیے جائیں گے۔
60 دن تک کچھ نہ کھایا:
اس گروہ کے ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ایک راہب کے پاس سے یہ خواہش لئے گزرے کہ جس دھو کے میں یہ گرفتار ہے اس سے چھٹکارا پائے اور اسلام لے آئے۔چنانچہ انہوں