اس میں اضافہ نہیں کروں گا کیونکہ میں نے رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا:”اَقْرَبُکُمْ مِنِّیْ مَجْلِسًا یَّوْمَ الْقِیَامَةِ وَاَحَبُّکُمْ اِلَیَّ مَنْ مَاتَ عَلٰی مَا ھُوَ عَلَیْہِ الْیَوْم یعنی بروزِ قیامت مجلس میں تم میں میرے زیادہ قریب اور مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہوگا جو اسی حالت پر فوت ہو جس پر وہ آج ہے۔“(1)
آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہلوگوں کے اَفعال کو ناپسند کرتے اور انہیں ان اَفعال سے روکتے ہوئے ارشاد فرماتے:
’’تم نےسنّت کو تبدیل کر دیا ہے، تمہارے لئے جَو کا آٹا چھانا جاتا ہے حالانکہ زمانۂ رِسالت میں نہیں چھانا جاتا تھا، تم چپاتی پکاتے ہو اور دو سالن جمع کرتے ہو، تمہارے سامنے مختلف انواع و اقسام کے کھانے پیش کئے جاتے ہیں، صبح ایک کپڑے میں ہوتے ہو تو شام کو دوسرے میں حالانکہ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانۂ اقدس میں تم ایسے نہیں تھے۔‘‘
اصحاب صُفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ میں سے ہردو افراد کا یومیہ کھاناایک مُد کھجور تھی(2) جبکہ کھجور میں سے گھٹلی بھی نکال لی جاتی تھی۔ ایک رِطْل اور اس کا تہائی حصہ ایک مد کہلاتا ہے۔
مومن کی مثال:
حضرت سیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرمایا کرتے تھے: مومن چھوٹی بکری کی مثل ہوتا ہے اس کے لئے ایک مٹھی پرانی کھجوریں، ستّو اور ایک گھونٹ پانی کافی ہوتا ہےجبکہ منافق گوشت کھانے کے عادی وشوقین خونخوار درندے کی طرح ہوتا ہے وہ بڑے بڑے لقمے نگلتا اور ہڑپ کرتاچلاجاتا ہے نہ توخود بھوکا رہ کر اپنے پڑوسی کو کھلاتا ہے اور نہ ہی اپنا بچاہوا اضافی کھانا کسی مومن کو دیتا ہے،لہٰذا تم اضافی کھانے کوصدقہ کرکے آخرت کے لئے ذخیرہ کرلو۔
مومن کے کھانے کی مقدار:
حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللہ تُستَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں: اگرچہ دنیا خالص وتازہ خون ہوتی پھر بھی مومن کی غذا حلال ہی ہوتی کیو نکہ مومن ضرورت کے وقت فقط اتنی مقدار میں کھانا کھاتا ہے جو اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسندللامام احمدبن حنبل،حديث ابی عبيدة بن الجراح،۱/ ۴۱۶،حديث:۱۶۹۶بتغیر
2…المسندللامام احمدبن حنبل،مسندالمکيين،حديث سهل بن حنيف،۵/ ۴۱۳،حديث:۱۵۹۸۸