Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
274 - 1245
فرد اور کام میں مشغولیت کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے۔
	یہاں ایک پانچواں درجہ بھی ہے جس میں کوئی مقدار مقرر نہیں ہے لیکن اس میں غَلَطی ودھو کے کی گنجائش بھی ہے۔ وہ درجہ یہ ہے کہ کھانا اس وقت کھایا جائے جب صحیح معنوں میں خوب بھوک لگی ہو اور ابھی حقیقی معنوں میں خواہش باقی ہو کہ ہاتھ روک لے۔ مگر زیادہ تر یہی ہوتا ہے کہ جو اپنے لئے ایک یا دو روٹی کی مقدار معین نہیں کرتا وہ حقیقی بھوک کو پہچان نہیں پاتا اور خواہش کے سبب یہ معاملہ اس پر مُشْتَبَہ ہوجاتا ہے۔
حقیقی بھوک کی علامات:
	حقیقی بھوک کی کچھ علامات درج ذیل ہیں:(۱)… نفس سالن طلب نہ کرے بلکہ جیسی بھی روٹی ہواسے رغبت اور چاہت کے ساتھ بغیر سالن کے کھا لے اور جب نفس کسی خاص اور معیّن روٹی کو طلب کرے یا سالن طلب کرے تو یہ حقیقی بھوک نہیں ہے۔ (۲)…جب تھو کے تو  اس پر مکھی نہ بیٹھے یعنی اس کے تھوک میں چکناہٹ نہ ہو، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ معدہ خالی ہے لیکن اس کی پہچان مشکل ہے۔
	راہِ آخرت کے مسافر کے لئے درست یہ ہے کہ اپنے لئےاتنی مقدار مقرر کرے کہ جو عبادت وہ کرتا ہے اسے کرنے سے عاجز نہ ہو جائے، جب کھاتے کھاتے وہ اُس مقدار تک پہنچ جائے تو رک جائے اگرچہ ابھی خواہش باقی ہو۔
	خلاصہ یہ ہے کہ کھانے کی کوئی مقدار مقر رکردینا ممکن نہیں کیونکہ یہ حالتوں اور اشخاص کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے۔ہاں! صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ایک گروہ کی ہفتے بھر کی غذا ایک صاع گندم تھی اور یہ حضرات جب کھجور کھاتے تو (ہفتے بھر میں) ڈیڑھ صاع استعمال کرتے اور گندم کا ایک صاع چار مُد کا ہوتا ہے تو یہ ہر دن کا تقریباً نصف مُد بنتا ہے اورہم یہ بات ذکر کر چکے ہیں کہ یہ( یعنی نصف مُد)پیٹ کے ایک تہائی حصہ کی مقدار ہے جبکہ کھجور میں ایک صاع سےزیادہ کھانےکی حاجت پیش آتی ہے کیونکہ اس میں سے گٹھلی نکال لی جاتی ہے۔
سیِّدُنا ابوذر غِفاری رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی نصیحت:
	حضرت سیِّدُناابوذرغِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے کہ آقائے دوعالم، نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک زمانے میں میرے ہفتے بھر کا کھانا ایک صاع  جَوتھا۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم! میں مرتے دم تک